ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 362

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۲ جلد پنجم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے بلکہ یہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ جب زمانہ میں گناہ کثرت سے ہوتے ہیں اور اہل دنیا ایمان کی حقیقت نہیں سمجھتے اور ان کے پاس پوست یا ہڈی رہ جاتی ہے اور مغز اور لب نہیں رہتا ایمانی قوت کمزور ہو جاتی ہے اور شیطانی تسلط اور غلبہ بڑھ جاتا ہے ایمانی ذوق اور حلاوت نہیں رہتی ایسے وقتوں میں عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک کامل بندہ کو جو خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت میں فنا شدہ اور محو ہوتا ہے اپنے مکالمہ کا شرف بخش کر بھیجتا ہے اور اب اس وقت اس نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں الہی محبت بالکل ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ اگر چہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے لوگ لا اله الا اللہ کے بھی قائل ہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں۔ بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی اور دوسری طرف ان اعمال صالحہ کے مخالف کام کرنا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال اعمال صالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں کیونکہ ان میں اخلاص اور روحانیت کا شمہ بھی نہیں ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ان اعمالِ صالحہ کے برکات اور انوار ساتھ نہیں ہیں۔ خوب یا درکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہوگا اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔ اعمال صالحہ اسی وقت اعمال صالحہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فساد نہ ہو صلاح کی ضد فساد ہے صالحہ وہ ہے جو فساد سے مبرا منزہ ہو جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہوئے ہیں ان کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہر گز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور روحانیت سے خالی ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ہم ل البدر میں اس کے بعد ایک مزید فقرہ یہ ہے کہ ” اور اس کی جگہ دنیا نے لے لی ہے“ البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه (۲)