ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 361

کھڑے ہو کر فرمائی۔میں نے اس واسطے چند کلمات کے بیان کرنے کی ضرورت سمجھی ہے کہ چونکہ موت کا اعتبار نہیں ہے اور کوئی شخص اپنی نسبت یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ میری زندگی کس قدر ہے اور کتنے دن باقی ہیں اس لیے مجھے یہ اندیشہ بار بار پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری جماعت میں سے کوئی ناواقف ہو تو وہ واقف ہو جائے کہ اس سلسلہ کے قائم کرنے سے اللہ تعالیٰ کی کیا غرض ہے؟اور ہماری جماعت کو کیا کرنا چاہیے تو یہ سخت غلطی ہوگی اور یہ بھی غلطی ہے کہ کوئی اتناہی سمجھ لے کہ رسمی طور پر بیعت میں داخل ہونا ہی نجات ہے اس لیے ضرورت پڑی ہے کہ میں اصل غرض بتاؤں کہ خدا تعالیٰ کیا چاہتا ہے؟ سب لوگ یادر کھو کہ رسمی طور پر بیعت میں داخل ہونا یا مجھ کو امام سمجھ لینا اتنی ہی بات نجات کے واسطے ہرگز کافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے وہ زبانی باتوں کو نہیں دیکھتا۔نجات کے واسطے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے وہی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اوّل سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لا شریک سمجھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبیؐ یقین کرے اور قرآن شریف کو کتاب اللہ سمجھے کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ قیامت تک اب اور کوئی کتاب یا شریعت نہ آئے گی یعنی قرآن شریف کے بعد اب کسی کتاب یا شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔دیکھو خوب یاد رکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الا نبیاء ہیں یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت، نئی کتاب نہ آئے گی نئے احکام نہ آئیں گے۔یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے جو الفاظ میری کتاب میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں بلکہ منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقّہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات ِالٰہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے اس پر نبی۱ کا لفظ بولا جاتا ہے اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے یہ معنے نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یاوہ ۱ البدر میں ہے۔’’ مکا لمات الٰہیہ کا شرف اسے دیتا ہے اور غیب کی خبریں اسے بتلاتا ہے اس لحاظ سے اس مامور پر بھی نبی کا لفظ بولا جاتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۲)