ملفوظات (جلد 5) — Page 29
ہے کہ ایک عورت بعمر۱۸سال سفیدرنگ وہاں بیٹھی ہے۔اس کے کپڑے بھگوے رنگ کے ہیں مگر بہت صاف ہیں۔جب اندر گئے ہیں توگھروالوں نے کہاہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے اور یہیں خواب ختم ہو گئی۔۱ استفساراوراُن کے جواب ۱ اہل بیت سے مُراد سوال۔اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا(الاحزاب:۳۴) کس کی شان میں ہے؟ جواب۔اگرقرآن شریف کودیکھاجاوے توجہاںیہ آیت ہے وہاںآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوںہی کا ذکر ہے۔سارے مفسراس پرمتفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُمہات المومنین کی صفت اس جگہ بیان فرماتا ہے دوسری جگہ فرما یاہے۔اَلطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ (النور: ۲۷) یہ آیت چاہتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالے طیّبات ہوں۔ہاں اس میں صرف بیبیاںہی شامل نہیں بلکہ آپ کے گھرکے رہنے والی ساری عورتیں شامل ہیں اور اس لیے اس میں بنت بھی داخل ہوسکتی ہے بلکہ ہے اور جب فاطمہ رضی اللہ عنہاداخل ہوئیں تو حسنین بھی داخل ہوئے۔پس اس سے زیادہ یہ آیت وسیع نہیں ہوسکتی جتنی وسیع ہوسکتی تھی ہم نے کردی کیونکہ قرآن شریف ازواج کو مخاطب کرتا ہے اور بعض احادیث نے حضرت فاطمہ اور حسنینؓکو مطہرین میں داخل کیا ہے پس ہم نے دونوں کو یک جا جمع کر لیا۔شیعہ نے ازواج مطہرات کو سبّ و شتم سے یاد کیا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا کریں گے اس لیے قبل ازوقت ان کی برأت کردی۔بعض مخالفین کا طاعون سے بچنا سوال ہوا کہ بعض مخالف کہتے ہیں ہم پر کیوںطاعون نہیں آتی؟ ۱ اس عنوان سے الحکم جلد۷ نمبر۱۵ صفحہ ۹ پر بعض سوال اور ان کے جوابات ایسے ہیں جو ۳؍اپریل ۱۹۰۳ء کی ڈائری میںالحکم میں اور ۴؍اپریل ۱۹۰۳ء کی ڈائری میں البدر میں چھپ چکے ہیں لہٰذا اُن کو چھوڑ کر باقی استفسار اور ان کے جواب یہاں درج کیے جاتے ہیں۔(مرتّب)