ملفوظات (جلد 5) — Page 30
ہے۔اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھو ٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کو دہریہ بنا دیتا ہے۔غرض اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تابع ہے اگر اس سے انکار کیا جاوے تو پھرتو خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔آخیر میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز اور حکیم بیان کی ہے یعنی اس کا غلبہ قہری ایسا ہے کہ ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر رہی ہے بلکہ جب خدا تعالیٰ کا قرب انسان حاصل کرتا ہے تو اس انسان کی طرف بھی ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے۔جس کا ثبوت سو رۃالعادیات میں ہے عزیز، حکیم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غلبہ حکمت سے بھر ا ہوا ہے نا حق کا دکھ نہیں ہے۔۱ ۹؍اپریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) حق وباطل فرمایا۔حق اپنے زور اور قوت سے چلتا اور اس کے ساتھ باطل بھی ضرور چلتا ہے لیکن باطل اپنی قوت اور طاقت سے نہیں چلتا بلکہ حق کے پرتو سے چلتا ہے کیونکہ حق چاہتا ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ باطل بھی چلے تاکہ تمیز ہو۔کاذبوں اور منکروں کے وجود سے بہت سی تحریکیں ہو جاتی ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دن ہی سارامکہ اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہہ کرساتھ ہو لیتا تو پھر قرآن شریف کا نزول اسی دن بندہو جاتا اور وہ اتنی بڑی کتاب نہ ہوتی جس جس قدر زورسے باطل حق کی مخالفت کرتا اسی قدر حق کی قوت اور رفتار تیز ہوتی ہے۔زمینداروں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ جتنا جیٹھ ہاڑ تپتا ہے اسی قدر ساون میں بارش زیادہ ہوتی ہے یہ ایک قدرتی نظارہ ہے حق کی جس قدرزور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھاتا ہے۔ہم نے خود آزما کردیکھاہے کہ جہاں جہاں ہماری نسبت زیادہ شور و غل ہوا ہے وہاں ایک ۱الحکم جلد۷نمبر۱۵ مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۹