ملفوظات (جلد 5) — Page 359
۲۶؍دسمبر۱۹۰۳ء صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کا درجہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایاکہ وہ ایک اسوئہ حسنہ چھوڑگئے ہیں اور اگر غورسے دیکھا جاوے تواس کا واقعہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ وہ تو مقیدنہ تھے نہ ان کو زنجیریں ڈالی گئی تھیں صرف ایک قسم کا جنگ تھا امام حسین کے ساتھ بھی کچھ فوج تھی اگر ان کے آدمی مارے گئے تو آخر ان کے آدمیوں نے بھی تو یزید کے آدمیوں کو مارا اور نہ جان کے بچانے کا کوئی موقع ان کو ملا مگر یہاں عبداللطیف صاحب مقید تھے زنجیریں ان کے ہاتھ پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں مقابلہ کرنے کی ان کو قوت نہ تھی اور بار بار جان کے بچانے کا موقع دیا جاتا تھا یہ اس قسم کی شہادت واقع ہوئی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سو سال میں ملنی محال ہے۔عام معمولی زندگی کا چھو ڑنا محال ہوا کرتا ہے حالانکہ ان کی زندگی ایک تنعم کی زندگی تھی مال، دولت، جاہ وثروت سب کچھ موجود تھا اور اگر وہ امیر کا کہنا مان لیتے تو ان کی عزّت اَور بڑھ جاتی مگر انہوں نے ان سب پر لات مار کر اور دیدہ دانستہ بال بچوں کو کچل کر موت کو قبول کیا۔انہوں نے بڑا تعجب انگیز نمونہ دکھلا یا ہے اور اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی چاہیے جماعت کو چاہیے کہ اسی کتاب (تذکرۃ الشہادتین) کو بار بار پڑھیں اور فکر کریں اور دعا کریں کہ ایسا ہی ایمان حاصل ہو۔مو منوں کے دوگروہ ہوتے ہیں ایک تو جان کو فدا کرنے والے اور دوسرے جو ابھی منتظر ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں میں سے وہ ۱۴ اچھے ہیں جو کہ قید میں ہیں۔۱ ابھی بہت ساحصہ ایسا ہے جو کہ صرف دنیا کو چاہتا ہے حالانکہ جانتے ہیں کہ مَر جانا ہے اور ۱ صاحبزادہ سیّد عبداللطیف صاحب کی شہادت کے بعد چودہ آدمی اس وجہ سے بادشاہ کا بل نے قید کر دئیے کہ وہ کہتے تھے کہ صاحبزادہ صاحب پر ظلم ہوا اور صاحبزادہ صاحب حق پر تھے۔(مرتّب)