ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 356

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۶ جلد پنجم خدا شناسی کی ضرورت یہ دنیا چند روزہ ہے اور ایسا مقام ہے کہ آخر تا ہے ۔ اندر ہی اندر مرورت اس فنا کا سامان لگا ہوا ہے وہ اپنا کام کر رہا ہے مگر خبر نہیں ہوتی اس لیے خدا شناسی کی طرف قدم جلد اٹھانا چاہیے۔ خدا کا مزا اسے آتا ہے جو اسے شناخت کرے اور جو مزاات اس کی طرف صدق وفا سے قدم نہیں اُٹھاتا اس کی دعا کھلے طور پر قبول نہیں ہوتی ۔ اور کوئی نہ کوئی حصہ تاریکی کا اسے لگا ہی رہتا ہے۔ اگر خدا کی طرف ذراسی حرکت کرو گے تو وہ اس سے زیادہ تمہاری طرف حرکت کرے گا لیکن اول تمہاری طرف سے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ بلا حرکت کئے کے اس سے کسی قسم کی توقع رکھی جاوے یہ سنت اللہ اسی سے جاری ہے کہ ابتدا میں انسان سے ایک فعل صادر ہوتا ہے۔ پھر اس پر خدا تعالیٰ کا ایک فعل نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص اپنے مکان کے کل دروازے بند کر دے گا تو یہ بند کرنا اس کا فعل ہوگا ۔ خدا کا فعل اس پر یہ ظاہر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا ہو جاوے گا لیکن انسان کو اس کو چہ میں پڑ کر صبر سے کام لینا چاہیے۔ بعض لوگ شکایت کیا کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں۔ نماز بھی پڑھی روزے بھی رکھے۔ صدقہ خیرات بھی دیا مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا۔ تو ایسے لوگ شقی از لی ہوتے ہیں کہ وہ خدا کی صفت ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خدا کے لیے کئے ہوتے ہیں۔ اگر خدا کے لیے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ضائع ہوا اور خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی زندگی میں نہ دیوے۔ اسی وجہ سے اکثر لوگ شکوک و شبہات میں رہتے ہیں اور ان کو خدا کی ہستی کا کوئی پتا نہیں لگتا کہ ہے بھی کہ نہیں ۔ ایک پارچہ سلا ہوا ہو تو انسان جان لیتا ہے کہ اس کے سینے والا ضرور کوئی ہے۔ ایک گھڑی ہے وقت دیتی ہے۔ اگر جنگل میں بھی انسان کو مل جاوے تو وہ خیال کرے گا کہ اس کا بنانے والا ضرور ہے۔ پس اسی طرح خدا کے افعال کو دیکھو کہ اس نے کس کس قسم کی گھڑیاں بنا رکھی ہیں اور کیسے کیسے عجائبات قدرت ہیں ایک طرف تو اس کی ہستی کے عقلی دلائل ہیں۔ ایک طرف نشانات ہیں وہ انسان کو منوا دیتے ہیں کہ ایک عظیم الشان قدرتوں والا خدا موجود ہے وہ پہلے اپنے برگزیدہ پر اپنا ارادہ ظاہر فرمایا کرتا ہے اور یہی بھاری شے ہے جو انبیا ءلاتے ہیں اور جس کا نام