ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 350

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۰ جلد پنجم تھے۔ ہمارے متبعین پر بھی ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ عروج ہی عروج ہو گا لیکن یہ ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے دور میں ہو یا ہمارے بعد ہو۔ خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سو یہ بات ابھی پوری ہونے والی ہے۔ یہ لوگ اگر اس وقت سمجھ بھی لیویں تو بھی جو ان کی خود تراشیدہ مصلحتیں ہیں وہ قبولیت کی اجازت نہیں دیتیں ۔ یہ خدا کی سنت ہے کہ اول گروہ غربا کو اپنے لیے منتخب کیا کرتا ہے اور پھر انہی کو کامیابی اور عروج حاصل ہوا کرتا ہے۔ کوئی نبی نہیں گذرا کہ وہ ( ظاہری حیثیت سے بھی ) دنیا میں نا کامیاب رہا ہو۔ ہمیں اس امر سے ہر گز تعجب نہیں کہ ہمارے متبعین امیر نہ ہوں گے۔ امیر تو یہ ضرور ہوں گے لیکن افسوس اس بات سے آتا ہے کہ اگر یہ دولت مند ہو گئے تو پھر انہی لوگوں کے ہمرنگ ہو کر دین سے غافل نہ ہو جاویں اور دنیا کو مقدم کر لیں ۔ جب تک کمزوری اور غریبی ہوتی ہے تب تک تقوی بھی انسان کے اندر ہوتا ہے۔ صحابہ کی بھی اوّل یہی حالت تھی۔ پھر جب کڑوڑہا مسلمان ہو گئے اور تمول وغیرہ ان میں آگیا تو خبیث بھی آکر شامل ہو گئے ۔ ہم بھی خدا کا شکر کرتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد غربا میں ترقی کر رہی ہے۔ (بعد نماز مغرب ) بعد ادا ئیگی نماز مغرب حضرت اقدس نے جلسہ فرمایا۔ مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی تھوڑی دیر کے بعد جب نواب م علی خان صاحب کے صاحبزادہ تھوڑی دیر بعد جناب محمد خان صاحب کے زریں لباس سے ملبس حضور کی خدمت میں نیاز مندانہ طریق پر حاضر ہوئے۔ آپ نے اُن کو اپنے پاس جگہ دی۔ ان کو اس ہیئت میں دیکھ کر خدا کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت کیا کہ ان کی کیا رسم ادا ہونی ہے؟ نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔ اس اثناء میں ایک سرو پا کا تھال آیا اور وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے رو برو دھرا گیا۔ چند لمحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اب آگے کیا ہونا ہے۔ عرض کی گئی کہ اسے دست مبارک لگا دیا جاوے اور دعافرمائی جاوے۔ چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔ ل البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ / جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۲ له