ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 27

بیّن فرق نظر آتا جاتا ہے۔ایک اکیلے آدمی کا کام ہرگز نہیں کہ کسرِ صلیب کرسکے مگر ہاں جب خدا کا ارادہ اس کے ساتھ ہو تو ہر ملائک اس کی امدادمیں کام کرتے ہیں۔نزوِل مامور جب مامور، مامور ہو کرآتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور دلوںمیں اس کی طرح نیک اور پاک خیالات کو پیداکرتے ہیں (جیسے اس سے پہلے شیاطین بُرے خیالات پیدا کیاکرتے ہیں) اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے آنے سے یہ تحریکیں پیداہوتی ہیں۔اسی طرح فرمایا اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِالآیۃ۔(القدر:۲،۳ ) خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میں ملائک نازل ہوں۔کیا یہ کام بغیر امداد الٰہی کہیں ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سمجھ میں آسکتاہے کہ ایک شخص خود بخود اُٹھے اور کسرِصلیب کر ڈالے۔نہیں۔ہاں اگر خدا اسے اُٹھاوے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔یہ کسرِ صلیب اعزازاً اور اکراماًمسیح موعود کی طرف منسوب کی جاتی ہے ورنہ کرتا تو سب کچھ خدا ہے یہ باتیں عین وقت پر واقع ہوئی ہیں۔قرآن سے بہ تصریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ یہی یہی ہے جس کا نام خدا نے رکھا ہے سِتَّةِ اَيَّامٍ۔چھٹے دن کے آخری حصہ میں آدم کا پیدا ہونا ضروری تھا براہین میں اسی کی طرف اشارہ ہے اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔پھر فرمایا اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الـحج:۴۸) آج سے پہلے جو ہزار برس گذرا ہے وہ باعتبار بداخلاقیوںاور بداعمالیوں کے تا ریکی کا زمانہ تھا کیونکہ وہ فسق و فجور کا زمانہ تھا اسی لیے آنحضرت نے خَیْـرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ کہہ کر تین سو برس کو مستثنٰی کر دیا ہے باقی ایک ہزار ہی رہ جاتا ہے ورنہ اس کے بغیر احادیث کی مطابقت ہو ہی نہیں سکتی اور اس طرح ہر پہلی کل کتابوں سے بھی مطابقت ہو جاتی ہے اور وہ بات بھی پوری ہوتی ہے کہ ہزار سال تک شیطان کھلا رہے گا یہ بات بھی کیسی پوری ہوتی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہمارے مسیح کو دوبا رہ آنا چاہیے۔یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہے کہ کوئی مذہب اس سے انکار کرہی نہیں سکتا۔یہ ایک علمی نشان ہے جس سے کوئی گریز نہیں ہوسکتا۔