ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 337

میں ملی؟ بھلا اگر کوئی نظیرہے تو پیش تو کرو میں نہایت پُر زور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دنیا کی ابتدا سے آج تک ایک نظیر بھی نہیں ملے گی۔پس کیا کوئی ایسا ہے کہ اس محکم اور قطعی دلیل سے فائدہ اٹھاوے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے؟ میں نہیں کہتا کہ بت پرست عمر نہیں پاتے یا دہریہ یا انا الحق کہنے والے جلد پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ان غلطیوں اور ضلالتوں کی سزا دینے کے لیے دوسرا عالم ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افترا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ الہام مجھ کو ہوا حالانکہ جانتا ہے کہ وہ الہام اس کو نہیں ہوا وہ جلد پکڑا جاتا ہے اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں قرآن اور انجیل اور تورات نے یہی گواہی دی ہے عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالف کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کرسکتا اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا پچیس برس تک یا اٹھارہ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کافرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ باوجودان مجرمانہ حرکات کے پکڑانہ گیا۔کیا ا مید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے۔بلکہ بہت سے دلائل سے ان پر حجت واردہو گئی مگر وہ خواب ِغفلت میں سورہے ہیں۔۱ ۹؍دسمبر۱۹۰۳ء حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معجزانہ طور پر آگ سے بچایا جانا جماعت میں سے ایک ہمارے مکرم دوست نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے کے ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴۸ مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۸۲، ۳۸۳