ملفوظات (جلد 5) — Page 331
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۱ جلد پنجم متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداءامر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آجاتا ہے۔ اسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ میں نہیں آتا اس میں سنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اُٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر کے ایمان پر راضی ہو کر اور اس کی دعاؤں کو سن کر معرفت تامہ کا دروازہ اس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اس کو پہنچاتا ہے لیکن متعصب آدمی جو عناد سے پر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور نہ وہ ان امور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور تو ہین کی نظر سے دیکھتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی میں ان کو اُڑا دیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں ان کو اعتراض کرنے کی دستاویز بناتا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں ۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت آیات بینات محکمات اور آیات متشابہات جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں ان ہے ہیں۔ ایک کے ہمیشہ دو حصے ہوتے رہے ہیں۔ ایک بینات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں اور ایک متشابہات جو محتاج تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پردے میں محجوب تھیں ۔ پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو ان پیشگوئیوں کے مصداق تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے بینات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تاخیر نہ کی اور جو حصہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا۔ آئندہ کے منتظر رہے اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھو کر نہ کھائی ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی ے پیشگوئیوں میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ تمام باتیں ایک ہی وقت میں پوری ہو جائیں ۔ بلکہ تدریجاً پوری ہوتی رہتی ہیں اور ممکن ہے کہ بعض باتیں ایسی بھی ہوں کہ اس مامور کی زندگی میں پوری نہ ہوں اور کسی دوسرے کے ہاتھ سے جو اس کے متبعین میں سے ہو پوری ہو جائیں ۔