ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 325

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۵ جلد پنجم دن سوال کیا کہ اولیاؤں اور پیغمبروں پر بڑی بڑی مصیبت آتی ہے اور وہ ہمیشہ مصیبت کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ تو میں نے جواب دیا کہ یہ بات غلط ہے اور قرآن شریف کے بھی بالکل بر خلاف ہے۔ خدا کے اولیاؤں اور نبیوں پر تو ہمیشہ اس کے انعامات ہوتے ہیں وہ ان کا ہر مقام میں حافظ و ناصر ہوتا ہے پھر ان پر مصیبت کے کیا معنے ؟ عملی طور پر دیکھ لو کہ حضرت موسیٰ کو کیا کامیابی حاصل ہوئی۔ ان کا دشمن غرقاب کیا گیا اور موسیٰ کو ان پر فتح حاصل ہوئی۔ پھر داؤد کو دیکھ لو۔ عیسی کو دیکھو کہ ان کے دشمن ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے رہے اور یہ سب کامیاب ہوتے رہے۔ ? ہوتے رہے۔ ہمارے پیغمبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عروج حاصل ہوا کیا اس کی نظیر مل سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ۔ ہرگز ہرگز یہ لوگ فقر و ذلت کے مصداق نہیں ہوتے ۔ الدُّنْيَا سِجْنُ لِلْمُؤْمِنِ میں اگر سجن کے معنی نسبتی کریں کہ اہل اللہ کو جو کچھ جنت میں ملے گا اس کے مقابلے میں یہ دنیا سجن ہے تو ٹھیک ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اپنے اولیاء کو کبھی عذاب نہیں کرتے بلکہ اس دلیل سے یہود و نصاری کے دعوی کی تردید کرتا ہے ان دونوں نے دعوئی کیا تھا کہ قَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصْرَى نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِبَّاؤُں کہ ہم خدا کے پیارے اور بمنزلہ اس کی اولاد کے ہیں تو اس کا جواب خدا تعالیٰ نے یہ دیا قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمُ (المائدة: ١٩) کم اگر تم خدا کے پیارے اور بمنزلہ اس کی اولاد کے ہو تو پھر تمہاری شامت اعمال پر تم کو وہ دکھ اور تکالیف کیوں دیتا ہے؟ پس اس سے ثابت ہے کہ جو خدا کے پیار - پیارے ہوتے ہیں ان کو دنیا میں دکھ نہیں ہوتا اور وہ ہر ایک قسم کے عذاب سے محفوظ ہوتے ہیں (اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ ) پس اگر اس کے پیاروں کو عذاب ہوتا رہے تو پھر کافروں میں اور ان میں کیا فرق ہوا ؟ انبیاء پر اگر کوئی واقعہ مصیبت کے رنگ میں آتا ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا ہے کہ ان کے اخلاق کو وہ دنیا پر ظاہر کرے کہ جو ہماری طرف سے آتے ہیں اور ہمارے ہو جاتے ہیں وہ کن اخلاق فاضلہ کے صاحب ہوتے ہیں۔ امام حسین پر بھی ایسا واقعہ گذرا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایسے واقعات گزرے مگر صبر اور استقلال اور خدا تعالیٰ کی رضا کو کس طرح مقدم رکھ کر بتلایا۔ انسان کے اخلاق ہمیشہ دو رنگ میں ظاہر ہو سکتے ہیں یا ابتلا کی حالت میں اور یا انعام کی