ملفوظات (جلد 5) — Page 315
یکم نومبر۱۹۰۳ء تہجد کی نماز کا طریق عبد العزیز صاحب سیالکوٹی نے لائل پور میں یہ مسئلہ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز اس طرح سے جیسا کہ اب تعامل اہل اسلام ہے بجا نہ لاتے بلکہ آپ صرف اُٹھ کر قرآن پڑھ لیاکرتے اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا کہ یہی مذہب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلا م کا ہے۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی خدمت میں بوساطت منشی نبی بخش صاحب اور مولوی نورالدین صاحب یہ اَمر تحقیق کے لیے پیش کیا گیا جس پر حضرت امام الزمان علیہ السلام نے مفصلہ ذیل فتویٰ دیا کہ میر ایہ ہرگز مذہب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر فقط قرآن شریف پڑھ لیا کرتے اور بس۔میں نے ایک دفعہ یہ بیان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی اَور ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کرسکے تو وہ اُٹھ کر استغفار، درودشریف اور الحمدشریف ہی پڑھ لیا کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نوافل ادا کرتے۔آپ کثرت سے گیارہ رکعت پڑھتے آٹھ نفل اور تین وتر آپ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دو رکعت پڑھ لیتے اور پھر سوجاتے اور پھر اُٹھتے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سوجاتے۔غرض سوکر اور اُٹھ کر نوافل اسی طرح ادا کرتے جیسا کہ اب تعامل ہے اور جس کو اب چودھویں صدی گذررہی ہے۔۱ ۱البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۶؍ نومبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۳۵ م