ملفوظات (جلد 5) — Page 310
میں کامیاب کررہا ہے۔انسان اگر اس کی طرف چل کر آوے تو وہ دوڑکر آتا ہے اور اگر وہ اس کی طرف تھوڑا سا رجوع کرے تو وہ بہت رجوع ہوتا ہے۔وہ بخیل نہیں ہے سخت دل نہیں ہے۔جو کوئی اس کا طالب ہے تو اس کا اوّل طالب وہ خود ہوتا ہے۔لیکن انسان اپنے ہاتھوں سے اگر ایک مکان کے دروازے بند کردیوے تو کیا روشنی اس کے اندر جاوے گی؟ہرگز نہیں۔یہی حال انسان کے قلب کا ہے۔اگر اس کا قول و فعل خدا کی رضا کے موافق نہ ہوگا اور نفسانی جذبات کے تلے وہ دبا ہوا ہوگا تو گویا دل کے دروازے خود بند کرتا ہے کہ خدا کا نور اور روشنی اس میں داخل نہ ہو،لیکن اگر وہ دروازوں کو کھولے گا تو معاًنور اس کے اندر داخل ہوگا۔ابدال،قطب اور غوث وغیرہ جس قدر مراتب ہیں یہ کوئی نماز اور روزوں سے ہاتھ نہیں آتے۔اگر ان سے یہ مل جاتے تو پھر یہ عبادات تو سب انسان بجا لاتے ہیں۔سب کے سب ہی کیوں نہ ابدال اور قطب بن گئے۔جب تک انسان صدق و صفاکے ساتھ خدا کا بندہ نہ ہوگا۔تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى (النجم:۳۸) کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت ِ الٰہی سے بھر نا، خدا کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہوناکہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔نماز اصل میں دعا کے لئے ہے کہ ہر ایک مقام پر دعا کرے لیکن جو شخص سویا ہوا نماز ادا کرتا ہے کہ اسے اس کی خبر ہی نہیں ہوتی تو وہ اصل میں نماز نہیں۔جیسے دیکھاجاتا ہے کہ بعض لوگ پچاس پچاس سال نماز پڑھتے ہیں، لیکن ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ نماز وہ شَے ہے کہ جس سے پانچ دن میں رُوحانیت حاصل ہو جاتی ہے۔بعض نمازیوں پر خدا نے لعنت بھیجی ہے جیسے فر ماتا ہے فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠(الماعون:۵) ویل کے معنے لعنت کے بھی ہوتے ہیں۔پس چاہیے کہ ادائیگی نمازمیں انسان سُست نہ ہو اور نہ غافل ہو۔ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ ایک موت اختیار کرے۔نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب شَے پر مقدّم رکھے۔بہت سی ریا کاریوں اور بیہودہ