ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 308

اور بسط ہوا کرتی ہے جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔تو اب دیکھو کہ صحابہ کرامؓ اس نفاق اور دورنگی سے کس قدر ڈرتے تھے۔جب انسان جرأت اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تو وہ بھی منافق ہوتا ہے۔دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے۔اگر مومن کی سی غیرت اور استقامت نہ ہو تب بھی منافق ہوتا ہے جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یاد نہ کرے تب تک نفاق سے خالی نہ ہوگا اور یہ حالت تم کو بذریعہ دعا کے حاصل ہو گی۔ہمیشہ دعا کرو کہ خدا اس سے بچاوے۔جو انسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دورنگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس سلسلہ سے دور رہتا ہے۔اس لیے خدا تعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اَسْفَلُ السَّافِلِیْن رکھی ہے کیونکہ ان میں دورنگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔گریہ وزاری کی اہمیت صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چا لیس دن تک رونا نہ آوے تو جانو کہ دل سخت ہوگیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّ لْيَبْكُوْا كَثِيْرًا (التوبۃ:۸۲) کہ ہنسو تھوڑااور روئو بہت مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے بہت ہیں۔اب دیکھو کہ زمانہ کی کیا حالت ہے۔اس سے یہ مُراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتا رہے بلکہ جس کا دل اندر سے رو رہا ہے وہی روتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ دروازہ بند کرکے اندر بیٹھ کر خشوع اور خضوع سے دعا میں مشغول ہو اور بالکل عجز ونیاز سے خدا کے آستانہ پر گر پڑے تاکہ وہ اس آیت کے نیچے نہ آوے جو بہت ہنستا ہے وہ مومن نہیں۔اگر سارے دن کا نفس کا محاسبہ کیا جاوے تو معلوم ہو کہ ہنسی اور تمسخر کی میزان زیادہ ہے اور رونے کی بہت کم ہے۔بلکہ اکثر جگہ بالکل ہی نہیں ہے۔اب دیکھو کہ زندگی کس قدر غفلت میں گذر رہی ہے اور ایمان کی راہ کس قدر مشکل ہے گویا ایک طرح سے مَرنا ہے اور اصل میں اسی کا نام ایمان ہے۔