ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 307

کو اوّل انکساری اور عجزاختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتا ہے۔لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔صوفیوں نے بعض جگہ لکھا ہے کہ اگر مرید کو اپنے مرشد کے بعض مقامات پر بظاہر غلطی نظر آوے تو اسے چاہیے کہ اس کا اظہار نہ کرے اگر اظہار کرے گا تو حبطِ عمل ہو جاوے گا (کیو نکہ اصل میں وہ غلطی نہیں ہوتی صرف اس کے فہم کا اپنا قصور ہوتا ہے )اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دستور تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس طرح سے بیٹھتے تھے جیسے سرپر کوئی پرندہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان سر اوپر نہیں اُٹھا سکتا یہ تمام ان کا ادب تھا کہ حتی الوسع خود کبھی کوئی سوال نہ کرتے۔ہاں اگر باہر سے کوئی نیا آدمی آکر کچھ پو چھتا تو اس ذریعہ سے جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلتا وہ سن لیتے صحابہ بڑے متادّب تھے اس لیے کہا ہے کہ اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ۔جو شخص ادب کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو پھر شیطان اس پر دخل پاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی نوبت ارتداد کی آجاتی ہے اس ادب کومدِنظر رکھنے کے بعد انسان کو لازم ہے کہ وہ فارغ نشین نہ ہو۔ہمیشہ توبہ استغفار کرتا رہے اور جو جو مقامات اسے حاصل ہوتے جاویں ان پر یہی خیال کرے کہ میں ابھی قابل اصلاح ہوں اور یہ سمجھ کر کہ بس میراتزکیہ نفس ہو گیا وہاں ہی نہ اَڑ بیٹھے۔منافق کون ہے یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے۔اگرچہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔صحابہ کرامؓ کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا ایک دفعہ حضرت ابوہریرہؓ رو رہے تھے تو ابوبکرؓ نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ کہا کہ اس لیے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔جب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب ان سے جُدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ابوبکرؓ نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے پھر دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجرا بیان کیا۔آپ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو۔انسان کے دل میں قبض