ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 304

ملفوظات حضرت مسیح موعود له ولد جلد پنجم جو قدر اس سلسلہ میں داخل ہونے کی اس وقت ہے وہ بعد ازاں نہ ہوگی ۔ مہاجرین وغیرہ کی نسبت قرآن شریف میں کیسے کیسے الفاظ آئے ہیں جیسے رضی اللہ عنہم ۔ لیکن جو لوگ فتح کے بعد داخل ہوئے کیا ان کو بھی یہ کہا گیا ؟ ہر گز نہیں۔ ان کا نام ناس رکھا گیا اور لوگوں سے بڑھ کر کوئی خطاب ان کو نہ ملا۔ خدا کے نزدیک عزتوں اور خطابوں کے یہی وقت ہوتے ہیں کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہونے سے برادری، رشتہ دار وغیرہ سب دشمن جان ہو جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ شرک کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کچھ حصہ اس کا ہو اور کچھ غیر کا بلکہ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اگر تم کچھ مجھ کو دینا چاہتے ہو اور کچھ بتوں کو تو اس ہواور کچھ غیر کابلکہ جگ کہ کچھ مجھکو ہواور سب کا سب بتوں کو دے دو۔ اس وقت کا تخم بو یا ہوا ہر گز ضائع نہیں ہوگا ۔ کیا آج تک کے تجربہ نے ان لوگوں کو بتلا نہیں دیا کہ یہ پودا ضائع ہونے والا نہیں ۔ قرآن شریف، احادیث صحیحہ اور نشانات آسمانی سب ہماری تائید میں ہیں اور بین طور پر سب کچھ ثابت ہو گیا ہے۔ اب جو اس سے فائدہ نہ اٹھاوے وہ مور د غضب الہی ہے۔ خدا غفور اور کریم ، حنان اور منان ہے مگر یہ انسان کی شوخی اور بدبختی ہے کہ اس کے مائدہ کو وہ رڈ کرتا ہے اور غضب کا مستحق ہو جاتا ہے اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا تو کب کا تباہ ہو جاتا۔انسان کو خدا کا خوف اور ڈر رکھنا چاہیے اور برادری اور رسوم سے ڈر کر خدا کی راہ کو ترک نہ کرنا چاہیے۔ جب انسان کا مددگار اور معاون خدا ہو جاتا ہے تو پھر اسے کوئی کمی نہیں ۔ خداداری چه غم داری ۔ اس قدر نبیاء جو آئے ہیں کیا خدا نے ان سے کسی قسم کی دعا کی ہے جو اب کسی سے کرے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔ ہر وقت جان کا خطرہ تھا۔ ہر ایک طرف سے دھمکی ملتی تھی مگر کیا لوگوں نے اور قوم اور برادری نے آپ کو تباہ کر دیا ؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ خود تباہ ہوئے اور آج کوئی ایک بھی نہیں جو اپنے آپ کو ابو جہل کی اولاد بتلاتا ہو مگر آنحضرت کے نام لیوا اور آپ کی اولاد سے دنیا بھری پڑی له ہے۔ ل البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹ اکتوبر، ۸ رنومبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۲۳