ملفوظات (جلد 5) — Page 304
جو قدر اس سلسلہ میں داخل ہونے کی اس وقت ہے وہ بعد ازاں نہ ہوگی۔مہاجرین وغیرہ کی نسبت قرآن شریف میں کیسے کیسے الفاظ آئے ہیں جیسے رضی اللہ عنہم۔لیکن جو لوگ فتح کے بعد داخل ہوئے کیا ان کو بھی یہ کہا گیا؟ہر گز نہیں۔ان کا نام ناس رکھا گیا اور لوگوں سے بڑھ کر کوئی خطاب ان کو نہ ملا۔خدا کے نزدیک عزّتوں اور خطابوں کے یہی وقت ہوتے ہیں کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہونے سے برادری،رشتہ دار وغیرہ سب دشمن جان ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ شرک کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کچھ حصہ اس کا ہو اور کچھ غیر کا بلکہ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اگرتم کچھ مجھ کو دینا چاہتے ہو اور کچھ بتوں کو تو سب کا سب بتوں کودے دو۔اس وقت کا تخم بویا ہوا ہرگز ضائع نہیں ہوگا۔کیا آج تک کے تجربہ نے ان لوگوں کو بتلا نہیں دیا کہ یہ پودا ضائع ہونے والا نہیں۔قرآن شریف،احادیثِ صحیحہ اور نشاناتِ آسمانی سب ہماری تائید میں ہیں اور بیّن طور پر سب کچھ ثابت ہو گیا ہے۔اب جو اس سے فائدہ نہ اُٹھاوے وہ موردِ غضب الٰہی ہے۔خدا غفور اور کریم،حنان اور منان ہے مگر یہ انسان کی شوخی اور بد بختی ہے کہ اس کے مائدہ کو وہ ردّ کرتا ہے اور غضب کا مستحق ہو جاتا ہے اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا تو کب کا تباہ ہو جاتا۔انسان کو خدا کا خوف اور ڈر رکھنا چاہیے اور برادری اور رسوم سے ڈر کر خدا کی راہ کو ترک نہ کرنا چاہیے۔جب انسان کا مدد گار اور معاون خداہو جاتا ہے تو پھر اسے کوئی کمی نہیں۔خداداری چہ غم داری۔اس قدر انبیاء جو آئے ہیں کیا خدا نے ان سے کسی قسم کی دغا کی ہے جو اَب کسی سے کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔ہر وقت جان کا خطرہ تھا۔ہر ایک طرف سے دھمکی ملتی تھی مگر کیا لوگوں نے اور قوم اور برادری نے آپ کو تباہ کردیا؟ہرگز نہیں۔بلکہ وہ خود تباہ ہوئے اور آج کوئی ایک بھی نہیں جو اپنے آپ کو ابو جہل کی اولاد بتلاتا ہو مگر آنحضرت ؐ کے نام لیوا اور آپ کی اولاد سے دنیا بھری پڑی ہے۔۱ ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخہ ۲۹ ؍اکتوبر ، ۸؍نومبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۲۳