ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 303

نے بار بار تکرا ر سے بیان کیا ہے اس لیے وقتاً فوقتاً اگر اس کی حقیقت آپ کے ذہن نشین کر دی جاوے تو اس حصہ کی تفسیر ہو جاوے اور اس کے ذریعہ سے یورپ میں ہر ایک اعتراض کا جواب دیا جا سکے اور اس طرح سے جو دھوکا اہل یورپ کو لگا ہے وہ نکل جاوے گا۔۱ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۳ء ظہر کے وقت حضرت اقدس نے یہ تقریر فرمائی۔ترکِ دنیا کی اہمیت جو شخص دنیا کو ردّ نہیں کرسکتا وہ ہمارے سلسلہ کی طرف نہیں آ سکتا۔دیکھو حضرت ابو بکرؓ نے سب سے اوّل دنیا کو ردّ کیا اور آپ کی آخری پوشاک یہی تھی کہ کمبل پہن کر آپ آحاضر ہوئے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے اوّل تخت پر جگہ دی۔وجہ اس کی یہی تھی کہ آپ نے سب سے اوّل فقر اختیار کیا تھا خدا تعالیٰ کی ذات پاک ہے کہ کسی کا قرضہ اپنے ذمہ نہیں رکھتی۔اوائل میں نقصان ضرور ہوتے ہیں۔دوستوں یاروں کے تعلقات قطع کرنے پڑتے ہیں لیکن ان سب کا بدلہ آخر کار دیتاہے۔ایک چوڑھے اور چمار کی خاطر جب ایک کام کیا جاوے اور تکلیف برداشت کی جاوے تو وہ اپنے ذمہ نہیںرکھتا تو پھر خدا کس لیے اپنے ذمہ رکھے۔وہ آخر کار سب کچھ دے دیتا ہے۔بار ہا ہم نے سمجھایا ہے کہ جس شخص کو اَور اَور اغراض سوائے دین کے ہیں وہ ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔دو کشتیوں میں پائوں رکھ کر پار اُترنا مشکل ہے اسی لیے جو ہمارے پاس آوے گا وہ مَر کر آوے گا لیکن خدا اس کی قدر کرے گا اور وہ نہ مَرے گا جب تک کہ دنیا میں کامیابی نہ دیکھ لے گا۔جو کچھ برباد کرکے آوے گا خدا اسے سب کچھ پھردے گا۔لیکن ایک دنیا دار قدم نہیں اُٹھا سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان خود ہی غداری کرتا ہے کہ نام تو خدا کی طرف آنے کا کرتا ہے اور اس کی نظر اہل دنیا کی طرف ہوتی ہے۔۱ البدرجلد ۲ نمبر ۴۱،۴۲ مورخہ۲۹؍اکتوبر، ۸ ؍نو مبر۱۹۰۳ءصفحہ۳۲۲،۳۲۳