ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 302

ہے اور بتلا یا کہ صرف مسیح کے واقعہ میں اس کے معنے اٹھا لینے کے کرتے ہیں۔حالانکہ اسی قرآن میں اور جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے اور لغت اور دوسری کتب عربیہ سب جگہ اس کا تر جمہ موت کرتے ہیں۔محمد عبدالحق صاحب۔یہ ضروری کام ہے جو کہ آپ نے اختیار کیا ہے اور اس کی ضرورت نہ صرف اہل اسلام کو ہے بلکہ عیسائیوں کو بھی بہت ہے۔مجھے قادیان میں آنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ بہت ہی مفید ہے اور ابتدا سے میری یہ خواہش ہے کہ اس قدر عظیم الشان کام کے واسطے جیسے کہ یہ ہے خدا تعالیٰ مجھے بھی ایک ہتھیار بنا دے اور اس میں سے مجھے بھی حصہ ملے۔حضرت مسیح موعودؑ۔ہم ہمیشہ دعا کرتے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لیے زندگی کا حصہ وقف کرے لیکن ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ صحبت میں رہ کر رفتہ رفتہ وہ تمام ضروری اصول سیکھ لیوے جن سے اہل اسلام پر سے ہرایک داغ دور ہوسکتا ہے اور وہ تمام قوت اور شوکت سے بھرے ہوئے دلائل سمجھ لیوے جن سے یہ مرحلہ طے ہوسکتا ہے۔تب وہ دوسرے ممالک میں جا کر اس خدمت کو ادا کرسکتا ہے۔اس خدمت کے برداشت کرنے کے لیے ایک پاک اور قوی روح کی ضرورت ہے جس میں یہ ہو گی وہ اعلیٰ درجہ کا مفید انسان ہوگا اور خدا کے نزدیک آسمان پر ایک عظیم الشا ن انسان قرار دیا جاوے گا۔محمد عبدالحق صاحب۔میں کل یہاں سے رخصت ہوں گا اور ایک ضروری خدمت کو سرانجام دینے کے لیے جو کہ بنی نوع انسان کی خدمت پر مبنی ہے آخر دسمبرتک ہندوستان کے مختلف مقامات پر دورہ کروں گا۔وہ آسڑ یلیا میں ہندوستا نی تا جروں کی بندش کوآزاد کرانے کی تجویز ہے۔اس دورہ کے بعد پھر میں دیکھوں گا کہ میں کون سی راہ اختیار کروں۔حضرت مسیح موعودؑ۔قرآن شریف کی تفسیر تو اپنے وقت پر ہو گی لیکن اگر خدا آپ کے دل میں ڈالے اور آپ یہاں آکر رہیں تو قرآن شریف کے اس حصہ کی تفسیر سردست کر دی جاوے جن پر ہرایک غیر مذہب نے کم فہمی سے اعتراض کئے ہیں یا اہل اسلام نے ان کے سمجھنے میں غلطی کھا ئی ہے۔اوّل اس کی فہرست طیار کر لی جاوے گی اور وہ بہت بڑی نہ ہو گی کیونکہ ایک ہی اعتراض کو ہر ایک فرقہ