ملفوظات (جلد 5) — Page 296
ان میں عیسائیوں کے میل جول سے آئی ہیں لیکن اب خدا چاہتا ہے کہ اسلام کا پاک اور منور چہرہ دنیا کو دکھلاوے۔رُوحانی ترقی کے لیے عقیدہ کی صفائی ضروری ہے۔جس قدر عقیدہ صاف ہوگا اسی قدر ترقی ہو گی۔دعا اور توجہ کی ضرورت اس اَمر میں اسی لیے ہوتی ہے کہ بعض لوگ غفلت کی وجہ سے محجوب ہوتے ہیں اور بعض کو تعصب کی وجہ سے حجاب حائل ہوتا ہے اور بعض اس لیے حجاب میں رہتے ہیں کہ اہلِ حق سے ان کو ارادت نہیں ہوتی مگر جب تک خدا دستگیری نہ کرے یہ حجاب دور نہیں ہوتے۔پس اس لیے توجہ اور دعا کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ حجاب دور ہوں۔جب سے یہ سلسلہ نبوت کا قائم ہے تب سے یہ اسی طرح چلا آتا ہے کہ ظاہری قیل وقال اس میں کچھ نہیں بناتی ہمیشہ توجہ اور دعا سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔دیکھو ایک زمانہ وہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا تھے مگر لوگ حقیقی تقویٰ کی طرف کھچے چلے آتے تھے حالانکہ اب اس وقت لاکھوں مولوی اور واعظ موجود ہیں۔لیکن چونکہ دیانت نہیں، وہ رُوحانیت نہیں اس لیے وہ اثر اندازی بھی ان کے اندر نہیں ہے۔انسان کے اندر جو زہریلا مواد ہوتا ہے وہ ظاہری قیل وقال سے دور نہیں ہوتا۔اس کے لیے صحبت صالحین اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے فیض یافتہ ہونے کے لیے ان کے ہمرنگ ہونا اور جو عقائد صحیحہ خدا نے ان کو سمجھائے ہیں ان کو سمجھ لینا بہت ضروری ہے۔جب آپ کو اس بات کا علم ہو جاوے گا کہ فلاں فلاں عقائد ہیں جس میں عامہ اہلِ اسلام کا اور ہمارا اختلاف ہے تو پھر آپ کی طاقت (اثر اندازی)بڑھ جاوے گی اور آپ اس رُوحانیت سے مستفید ہوں گے جس کی تلاش میں آپ ہیں۔محمد عبد الحق صاحب۔مجھے ہمیشہ اس اَمر کی تلاش رہی ہے کہ رُوحانی اتحاد اور اُنس کسی سے حاصل ہو اور اسی لیے میں جہاں کہیں پھرتا رہا ہوں ہمیشہ قدرتی نظاروں سے بطور تفاؤل کے سبق حاصل کرتا رہا ہوں۔اسی طرح آج میں دیکھتا ہوں کہ میرا آنا اور نئے چاند کا پیدا ہونا (آج شعبان کا چاند نظر آیا تھا)ایک ساتھ ہے۔چاند کے ابتدائی دن چونکہ ترقی اور حصولِ کمال کے ہوتے ہیں جیسے جیسے یہ ترقی