ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 292

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۳ء ۲۹۲ جلد پنجم اس سے بڑھ کر انسان کے لیے فخر نہیں کہ وہ خدا کا ہو کر دعا اور صبر و رضا کے مقامات رہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان سے مساوات بنالیتا ہے۔ کبھی ان کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے ایک طرف فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: ۲۱) دوسری طرف فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ ( البقرة : ۱۵۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک مقام دعا کا نہیں ہوتا نَبْلُوَنَّكُمْ کے موقع پر اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ (البقرة: ۱۵۷) کہنا پڑے گا یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں لوگ ایسے موقع پر دھوکا کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کیوں قبول نہیں ہوتی ۔ ان کا خیال ہے کہ خدا ہماری مٹھی میں ہے جو جب چاہیں گے منوالیویں گے بھلا امام حسین علیہ السلام پر جو ابتلا آیا تو کیا انہوں نے دعا نہ مانگی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر بچے فوت ہوئے تو کیا آپ نے دعا نہ کی ہو گی بات یہ ہے یہ مقام صبر اور رضا کے تھے۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۳ء آریہ لوگ جو توبہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ پرمیشر صرف تو بہ کرنے سے گناہ بخشا تو بہ کی حقیقت ہے ہے اور ان بداعمالیوں کے نتائج نہیں ملتے جو اس نے کئے اس لیے یہ انصاف سے بعید ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان لوگوں کو تو بہ کی حقیقت کا علم نہیں۔ تو بہ اس بات کا نام نہیں ہے کہ صرف منہ سے تو بہ کا لفظ کہہ دیا جاوے بلکہ حقیقی تو یہ یہ ہے کہ نفس کی قربانی کی جاوے۔ جو شخص توبہ کرتا ہے وہ اپنے نفس پر انقلاب ڈالتا ہے گو یا دوسرے لفظوں میں وہ مر جاتا ہے۔ خدا کے لیے جو تغیر عظیم انسان دکھ اُٹھا کر کرتا ہے تو وہ اس کی گذشتہ بداعمالیوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ جس قدر نا جائز ذرائع معاش کے اس نے اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو وہ ترک کرتا ہے۔ عزیز دوستوں اور یاروں سے جدا ہوتا ہے۔