ملفوظات (جلد 5) — Page 292
اکتو بر ۱۹۰۳ء دعا اور صبر ورضا کے مقامات اس سے بڑ ھ کر انسان کے لیے فخر نہیں کہ وہ خدا کا ہو کر رہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان سے مساوات بنا لیتا ہے۔کبھی ان کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے ایک طرف فر ماتا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) دوسری طرف فرماتا ہے وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ (البقرۃ:۱۵۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک مقام دعا کا نہیں ہوتا نَبْلُوَنَّکُمْ کے موقع پر اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرۃ:۱۵۷) کہنا پڑے گا یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں لوگ ایسے موقع پر دھوکا کھا تے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کیوں قبول نہیں ہوتی۔ان کا خیال ہے کہ خدا ہماری مٹھی میں ہے جو جب چاہیں گے منوا لیویں گے بھلا امام حسین علیہ السلام پر جوابتلا آیا تو کیا انہوں نے دعا نہ مانگی ہو گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر بچے فوت ہوئے تو کیا آپ نے دعا نہ کی ہو گی بات یہ ہے یہ مقام صبر اور رضا کے تھے۔۱۹؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء توبہ کی حقیقت آریہ لوگ جو توبہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ پر میشر صرف توبہ کرنے سے گناہ بخشتا ہے اور ان بد اعمالیوں کے نتائج نہیں ملتے جو اس نے کئے اس لیے یہ انصاف سے بعید ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان لوگوں کو توبہ کی حقیقت کا علم نہیں۔توبہ اس بات کا نام نہیں ہے کہ صرف منہ سے توبہ کا لفظ کہہ دیا جاوے بلکہ حقیقی توبہ یہ ہے کہ نفس کی قربانی کی جاوے۔جو شخص توبہ کرتا ہے وہ اپنے نفس پر انقلاب ڈالتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں وہ مَر جاتا ہے۔خدا کے لیے جو تغیر عظیم انسان دکھ اُٹھا کر کرتا ہے تو وہ اس کی گذشتہ بد اعمالیوں کا کفارہ ہوتا ہے۔جس قدر ناجائز ذرائع معاش کے اس نے اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو وہ ترک کرتا ہے۔عزیز دوستوں اور یاروں سے جدا ہوتا ہے۔