ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 291

کام ہو جاوے تو میرا سب جان ومال آپ پر قر بان ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کی شرط نہ کرنی چاہیے اور نہ خدا تعالیٰ رشوت چاہتا ہے ہم بھی دعا کریں گے اور ان کو بھی چاہیے کہ عجز وانکسار سے اس کی با رگا ہ میں دعا کریں۔قر آن شریف وحدیث کا مقام حضرت اقدس نے قرآن شریف اور حدیث کے ذکر پر فرمایا کہ اگر صرف احادیث پر انحصار کیا جاوے اور قرآن کریم سے اس کی صحت نہ کی جاوے تو اس کی مثال ایسی ہو گی جیسے ایک انسان کے سر کو کاٹ دیا جاوے اور صرف بال ہاتھ میں رکھ لیے جاویں اور کہا جاوے کہ یہی انسان ہے۔حالانکہ بال کی زینت اور خوبی اسی وقت ہے جبکہ انسان کے ساتھ ہوں ایسے ہی حدیث اسی وقت کوئی شَے اور قابل اعتماد ہوسکتی ہے جبکہ قرآن شریف اس کے ساتھ ہو۔احادیث کے اوپر نہ تو خدا کی مہر ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) اسی لیے ہمارا یہ مذہب ہے کہ قرآن شریف سے معارض نہ ہونے کی حالت میں ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے۔لیکن اگر کوئی قصہ جو کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور حدیث میں اس کے خلاف پایا جاوے مثلاً قرآن میں لکھا ہے کہ اسحاقؑ ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے اور حدیث میں لکھا ہوا ہو کہ وہ نہیں تھے تو ایسی صورت میں حدیث پر کیسے اعتماد ہوسکتا ہے۔مسیح موعود کی نسبت ان کا یہ خیال کہ وہ اسرائیلی مسیح ہوگا بالکل غلط ہے قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ وہ تم میں سے ہوگا جیسے سورہ نور میں ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ (النّور: ۵۶) پھر بخاری میں بھی مِنْكُمْ ہی ہے پھر مسلم میں بھی مِنْكُمْ ہی صاف لکھا ہے۔ان کمبختوں کو اس قدر خیال نہیں آتا اگر اسی مسیح نے پھر آنا تھا تو مِنْكُمْ کی بجائے مِنْ بَنِیْ اِسْـرَاءِ یْلَ لکھا ہوتا۔اب قرآن شریف اور احادیث تو پکار پکار کر مِنْكُمْ کہہ رہے ہیں مگر ان لوگوں کا دعویٰ مِنْ بَنِیْ اِسْـرَاءِ یْلَ کا ہے سوچ کر دیکھو کہ قرآن کو چھوڑ یں یا ان کو۔۱ ۱البدرجلد ۲ نمبر ۳۹ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۰۶