ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 290

کرایہ دے سکتا ہوں محض ایک نادار خیال کرکے نہ کسی اور وجہ سے۔الراقم خاکسار میرزا غلام احمد ۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء یہ رقعہ لے کر پھر بھی میاں گُل محمد کو قرار نہ آیا اور جبکہ ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو کہنے لگے جو الفاظ میں ایزاد کرانا چاہتا ہوں وہ کر دو مگر خدا کے مسیح نے اسے مناسب نہ جانا اور آخر میاں گُل محمد صاحب رخصت ہوئے۔۱ ۱۴؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) دنیا کی تلخیاں شام کے وقت ایک مختصر تقریر دنیا کی تلخیوں پر فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔تعجب ہے کہ انسان اس (دنیا) میں راحت اور آرام طلب کرتا ہے حالانکہ اس میں بڑی بڑی تلخیاں ہیں۔خویش واقارب کو ترک کرنا دوستوں کا جدا ہو نا۔ہر ایک محبوب سے کنارہ کشی کرنا۔البتہ آرام کی صورت یہی ہے کہ خدا کے ساتھ دل لگایا جاوے جیسے کہا ہے کہ جز بخلوت گاہِ حق آرام نیست انسان ایک لحظہ میں خوشی کرتا ہے تو دوسرے لحظہ میں اسے رنج ہوتا ہے لیکن اگر رنج نہ ہو تو پھر خوشی کا مزا نہیں آتا جیسے کہ پانی کا مزا اسی وقت آتا ہے جبکہ پیاس کا درد محسوس ہواس لیے درد مقدم ہے۔۲ ۱۵؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) شام کے وقت ایک صاحب نے ایک بیگم صاحبہ کا پیغام آکر دیا کہ وہ کہتی ہیں کہ اگر میرا فلاں فلاں البدرجلد ۲ نمبر ۳۹ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۰۵،۳۰۶ ۲ البدرجلد ۲ نمبر ۳۹ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۰۶