ملفوظات (جلد 5) — Page 289
کے بعد میاں گُل محمد صاحب اس بات کی مجھے اطلاع دیں کہ وہ قادیان میں آنے کے لیے طیار ہیں تو میں ان کوبُلا لوں گا تا جو سوال کرنا ہووہ کریں۔سوال صرف ایک ہوگا اورفریقین کے لیے جواب اور جواب الجواب دینے کے لیے چار دن کی مہلت ہو گی اور انہی چار دنوں کے اندر میرا بھی حق ہوگا کہ یسُوع مسیح اور اس کی خدائی کی نسبت یا انجیل اور تورات کے تناقص کی نسبت جو عیسائیوں کے موجودہ عقیدہ سے پیدا ہوتا ہے کوئی سوال کروں۔ایسا ہی ان کا حق ہوگا کہ وہ جواب دیں۔پھر میرا حق ہوگا کہ جواب الجواب دوں۔اور یہ اَمر ضروری ہوگا کہ میاں گُل محمد صاحب قادیان سے جانے سے پہلے مجھے اطلاع دیں کہ وہ اسلام یا قرآن شریف پر کیا اعتراض کرنا چاہتے ہیں تا ہم بھی دیکھیں کہ واقعی وہ اعتراض ایسا ہے کہ یسوع مسیح کی انجیل یا اس کے چال چلن یا اس کے نشانوں پر وارد نہیں ہوتا۔گو مجھے بہت افسوس ہے کہ ایسے لوگوں کو مخاطب کروں کہ ا ب بھی اور اس زمانہ میں اُس شخص کو جس کے انسانی ضعف اُس کی اصل حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں خدا کرکے مانتے ہیں۔مگر ہمارافر ض ہے کہ ذلیل سے ذلیل مذہب والوں کو بھی ان کے چیلنج کے وقت رد نہ کریں اس لیے ہم رد نہیں کرتے۔بالآخر یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا صحیح اور پورا پتا لکھ کر مجھے دیں تا میرے جواب کے پہنچنے میں کوئی دقّت پیش نہ آوے یعنی لاہور میں کہاں اور کس محلہ میں رہتے ہیں اور پورا پتا کیا ہے مکرّر یہ کہ آپ کے اطمینان کے لیے جیسا کہ رات کو آپ نے تقاضا کیا تھا میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے لکھنے پر قادیان میں آویں اور میری کسی مجبوری سے بغیر مباحثہ کے واپس جاویں تو میں دو طرفہ آپ کو لاہور کا کرایہ دوں گا اور جو رات کو آپ کو مبلغ تین روپے دئیے گئے ہیں۔اس میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ کسی حرجہ کی رُوح سے آپ کا یہ حق تھا کیونکہ جس حالت میں ہم نے اپنی گرہ سے خرچ اُٹھا کر آپ کو روکنے کے لیے لاہور میں تار بھیج دیا تھا اور تین خط بھی بھیجے پھر اس صورت میں آپ کا یہ نقصان آپ کے ذمہ تھا مگر میں نے محض مذہبی مروّت کے طور پر آپ کو تین روپے دئیے ورنہ کچھ آپ کا حق نہ تھا۔ایسا ہی اس وقت تک کہ آپ کی نیّت میں کوئی صر یح تعصب مشاہدہ نہ کروں ایسا ہی ہر ایک دفعہ بغیر آپ کے کسی حق کے