ملفوظات (جلد 5) — Page 281
ہاتھ پر سچے دل سے کی جاتی ہے۔انسان جب خود توبہ کرتا ہے تو وہ اکثر ٹوٹ جاتی ہے۔بار بار توبہ کرتا اور بار بار توڑتا ہے مگر مامور من اللہ کے ہاتھ پر جو توبہ کی جاتی ہے جب وہ سچے دل سے کرے گا تو چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق ہو گی وہ خدا خود اسے قوت دے گا اور آسمان سے ایک طاقت ایسی دی جاوے گی جس سے وہ اس پر قائم رہ سکے گا۔اپنی توبہ اور مامور کے ہاتھ پر توبہ کرنے میں بھی فرق ہے کہ پہلی کمزور ہوتی ہے دوسری مستحکم۔کیونکہ اس کے ساتھ مامور کی اپنی توجہ، کشش اور دعائیں ہوتی ہیں جو توبہ کرنے والے کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں اور آسمانی قوت اسے پہنچاتی ہیں جس سے ایک پاک تبدیلی اس کے اندر شروع ہو جاتی ہے اور نیکی کا بیج بویا جاتا ہے جو آخر ایک بار دار درخت بن جاتا ہے۔پس اگر صبر اور استقامت رکھوگے تو تھوڑے دنوں کے بعد دیکھو گے کہ تم پہلی حالت سے بہت آگے گزر گئے ہو۔غرض اس بیعت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مغفرت کا مستحق ہوتا ہے۔دوسرے مامور کے سامنے توبہ کرنے سے طاقت ملتی ہے اور انسان شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔یاد رکھو اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔کیونکہ دنیا تو گزر نے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی۔ع شبِ تنور گذشت و شبِ سمور گذشت دنیا اور اس کے اغراض اور مقاصد کو بالکل الگ رکھو۔ان کو دین کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ کیونکہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور دین اور اس کے ثمرات باقی رہنے والے۔دنیا کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے تم دیکھتے ہو کہ ہر آن اور ہر دم میں ہزاروں موتیں ہوتی ہیں۔مختلف قسم کی وبائیں اور امراض دنیا کا خاتمہ کر رہی ہیں کبھی ہیضہ تباہ کرتا ہے۔اب طاعون ہلاک کر رہی ہے۔کسی کو کیا معلوم ہے کہ کون کب تک زندہ رہے گا۔جب موت کا پتا نہیں کہ کس وقت آجاوے گی پھر کیسی غلطی اور بیہودگی ہے کہ اس سے غافل رہے اس لیے ضروری ہے کہ آخرت کی فکر کرو جو آخرت کی فکر کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس