ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 280

جوانی کا ہوتا ہے جس میں اس کے حسبِ حال جذبات کسل وغفلت ہوتی ہے پھر دوسری عمر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں دغا، فریب، ریا کاری اور مختلف قسم کے گناہ ہوتے ہیں۔غرض عمر کا ہر ایک حصہ اپنی طرز کے گناہ رکھتا ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ توبہ کرنے والے کے گناہ بخش دیتا ہے اور توبہ کے ذریعہ انسان پھر اپنے رب سے صلح کرسکتا ہے۔دیکھو انسان پر جب کوئی جرم ثابت ہو جائے تو وہ قابل ِسزاٹھہر جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ الآیۃ(طٰہٰ:۷۵) یعنی جو اپنے رب کے حضور مجرم ہو کر آتا ہے اس کی سزا جہنم ہے وہاں نہ وہ جیتا ہے نہ مَرتا ہے۔یہ ایک جرم کی سزا ہے اور جو ہزاروں لاکھوں جرموں کا مرتکب ہو اس کا کیا حال ہوگا لیکن اگر کوئی شخص عدالت میں پیش ہو اوربعد ثبوت اس پر فردقرارداد جرم بھی لگ جاوے اوراس کے بعد عدالت اس کو چھوڑ دے تو کس قدر احسان عظیم اس حاکم کا ہوگا۔اب غور کرو کہ یہ توبہ وہی بریت ہے جو فرد قرار داد جرم کے بعد حاصل ہوتی ہے توبہ کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پہلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ کس قدر گناہوں میں وہ مبتلا تھا اور ان کی سزا کس قدر اس کو ملنے والی تھی جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معاف کر دی۔پس تم نے جو اَب توبہ کی ہے چاہیے کہ تم اس توبہ کی حقیقت سے واقف ہو کر ان تمام گناہوں سے بچو جن میں تم مبتلا تھے اور جن سے بچنے کا تم نے اقرار کیا ہے ہر ایک گناہ خواہ وہ زبان کا ہو یا آنکھ کا یا کان کا غرض ہر اعضا کے جدا جدا گناہ ہیں ان سے بچتے رہو کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے گناہ کی زہر وقتاًفوقتاً جمع ہوتی رہتی ہے اور آخر اس مقدار اور حد تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان ہلاک ہو جاتا ہے پس بیعت کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ گناہ کے زہر کے لیے تر یاق ہے۔اس کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے اور گناہوں پر ایک خطِ نسخ پھیر دیتی ہے۔دوسرا فائدہ اس توبہ سے یہ ہے کہ اس توبہ میں ایک قوت واستحکام ہوتا ہے جو مامور من اللہ کے