ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 279

راضی ہوگا۔اور اگر ایسا نہیں کیا بلکہ لاپرواہی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی ہے تو پھر اس کا انجام خطرناک ہے۔اس لیے بیعت کرتے وقت یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ بیعت کی کیا غرض ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا اگر محض دنیا کی خاطر ہے تو بے فائدہ ہے لیکن اگر دین کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے تو ایسی بیعت مبارک اور اپنی اصل غرض اور مقصد کو ساتھ رکھنے والی ہے جس سے ان فوائد اور منا فع کی پوری امید کی جاتی ہے جو سچی بیعت سے حاصل ہوتے ہیں ایسی بیعت سے انسان کو دو بڑے فا ئدے حاصل ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور حقیقی توبہ انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اوراس سے پا کیز گی اور طہارت کی توفیق ملتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ(البقرۃ:۲۲۳) یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور نیز ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گناہوں کی کشش سے پاک ہونے والے ہیں توبہ حقیقت میں ایک ایسی شَے ہے کہ جب وہ اپنے حقیقی لوازمات کے ساتھ کی جاوے تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اندر ایک پا کیز گی کا بیج بو یا جاتا ہے جو اس کو نیکیوں کا وارث بنا دیتا ہے یہی باعث ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا یعنی توبہ سے پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں اس وقت سے پہلے جو کچھ بھی اس کے حالات تھے اور جو بے جا حرکات اور بے اعتدالیاں اس کے چال چلن میں پائی جاتی تھیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد صلح باندھا جاتا ہے اور نیا حساب شروع ہوتا ہے پس اگر اس نے خدا تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کی ہے تو اسے چاہیے کہ اب اپنے گناہوں کا نیا حساب نہ ڈالے اور پھر اپنے آپ کو گناہ کی ناپاکی سے آلودہ نہ کرے بلکہ ہمیشہ استغفار اور دعاؤں کے ساتھ اپنی طہارت اور صفائی کی طرف متوجہ رہے اور خدا تعالیٰ کو راضی اور خوش کرنے کی فکر میں لگا رہے اور اپنی اس زندگی کے حالات پر نا دم اور شرمساررہے جو توبہ کے زمانہ سے پہلے گذری ہے۔انسان کی عمر کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک حصہ میں کئی قسم کے گناہ ہوتے ہیں مثلاً ایک حصہ