ملفوظات (جلد 5) — Page 277
آپ نے فرمایا۔مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اس سے پیشتر مولوی صاحب کو اولاد کا بہت صدمہ پہنچا ہوا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا نام عبد القیوم رکھا جاوے۔پھر فرمایا کہ میرا تو یہی جی چاہتا ہے کہ میری جماعت کے لوگ کثرت ازدواج کریں اور کثرت ِاولاد سے جماعت کو بڑھا ویں مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیویوں کے ساتھ دوسری بیوی کی نسبت زیادہ اچھا سلوک کریں تاکہ اسے تکلیف نہ ہو دوسری بیوی پہلی بیوی کو اسی لیے نا گوار معلوم ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ میری غور و پرداخت اور حقوق میں کمی کی جاوے گی مگر میری جماعت کو اس طرح نہ کرنا چاہیے اگرچہ عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا ہاں یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کی غور وپرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری سے اسے زیادہ خوش رکھا جاوے ورنہ یہ نہ ہو کہ بجائے ثواب کے عذاب ہو۔عیسائیوں کو بھی اس اَمر کی ضرورت پیش آئی ہے اور بعض دفعہ پہلی بیوی کو زہر دے کر دوسری کی تلاش سے اس کا ثبوت دیا ہے۔یہ تقویٰ کی عجیب راہ ہے مگر بشرطیکہ انصاف ہو اور پہلی کی نگہداشت میں کمی نہ ہو۔۱ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۳ء روحانیت اور پاکیزگی کی ضرورت آپ نے ایک ذکرپر فرمایا کہ کوئی دنیا کا کاروبار چھوڑ کر ہمارے پاس بیٹھے تو ایک دریا پیشگوئیوں کا بہتا ہوا دیکھے جیسے کہ کل قلم والی پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔روحانیت اور پا کیز گی کے بغیر کوئی مذہب چل نہیں سکتا قرآن شریف نے بتلا یا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پیشتر دنیا کی کیا حالت تھی يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ(مـحمد:۱۳) پھر جب انہی لوگوں نے اسلام قبول کیا تو فرماتا ہے يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا(الفرقان :۶۵) ۱ البدرجلد ۳ نمبر ۷ مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ۱۱