ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 275

کبھی پیدا نہیں ہوئی اور خوشی سے دین کی راہ میں ذبح ہونا قبول کیا بلکہ بعض صحابہؓ نے جو یک لخت شہادت نہ پائی تو ان کو خیال گذرا کہ شاید ہمارے صدق میں کچھ کسر ہے جیسے کہ اس آیت میں اشارہ ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ( الاحزاب:۲۴) یعنی بعض تو شہید ہو چکے تھے اور بعض منتظر تھے کہ کب شہادت نصیب ہو۔اب دیکھنا چاہیے کہ کیا ان لوگوں کو دوسروں کی طرح حوائج نہ تھے اور اولاد کی محبت اور دوسرے تعلقات نہ تھے۔مگر اس کشش نے ان کو ایسا مستانہ بنا دیا تھا کہ دین کو ہرایک شَے پر مقدم کیا ہوا تھا۔اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(الشعراء:۴) کی تفسیر میں ایک نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال پیدا ہوا ہوگا کہ مجھ میں شاید وہ کامل کشش نہیں ہے ورنہ ابو جہل راہ راست پر آ جاتا پھر وہ خود ہی اس کا جواب دیتا ہے کہ آپ میں کشش تو کا مل تھی لیکن بعض فطرتیں ہی ایسی ہو جاتی ہیں کہ وہ اس قابل نہیں رہتیں کہ نور کو قبول کریں اس لیے ایسے لوگوں کا محروم رہنا ہی اچھا ہوتا ہے۔دنیا اور ما فیہا پر دین کو مقدم کر لینا بغیر کشش الٰہی کے پیدا نہیں ہوسکتا۔جن لوگوں میں یہ کشش نہیں ہوتی وہ ذرا سے ابتلا سے تبدیل مذہب کر لیتے ہیں اور حکومت کے دباؤ سے فوراً ہاں میں ہاں ملانے لگ جاتے ہیں مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک لاکھ تک ہو گئے تھے مگر چو نکہ اس میں وہ کشش نہ تھی اس لیے آخر کار سب کے سب فنا ہو گئے۔غرضیکہ کسی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل یہی ہے کہ اس کو کشش دی جاوے اور یہی بڑا معجزہ ہے جوکہ لکھو کھہا انسانوں کو اس کا گرویدہ اور جاں نثار بنا دیتی ہے کسی ایک کو اپنا گرویدہ کرنا محال ہوتا ہے کوئی کرکے دیکھے تو حال معلوم ہوسینکڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں مگر آخر کار دل شکنی ہی ہوتی ہے چہ جائیکہ ایک عالم کو اپنا گرویدہ کر لیا جاوے یہ بغیر اس کشش کے حاصل نہیں ہوتا جو خدا سے عطا ہو۔بادشاہوں کے رعب اور دھمکیاں اور ایک دنیا بھر کا اس کے مقابلہ پر آ جانا یہ سب اس کشش کے گروید وں کو تذبذب میں نہیں پڑنے دیتیں۔ابھی تک ان آریوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ سچی تقویٰ کیا شَے ہے یہ اس وقت پتا لگتا ہے کہ جب اوّل وہ اپنی بیماری کو سمجھیں جب تک ایک انسان اپنے آپ کو بیمار نہیں خیال کرتا تو وہ علاج کیا