ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 268

محض قیاسی دلائل کے پا بند رہے ہیں اور ان کی نظر صرف مخلوقات پر رہی انہوں نے اس میں بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور کامل یقین ان کوجو ہے کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے نصیب نہ ہوا یہ صرف خدا کا کلام ہے جو یقین کے اعلیٰ مراتب تک پہنچاتا ہے۔خدا کا کلام تو ایک طور سے خدا کا دیدا رہے اور یہ شعر اس پر خوب صادق آتا ہے۔؎ نہ تنہا عشق از دیدار خیزد بسا کیں دولت از گفتار خیزد خدا تعالیٰ قادر ہے کہ جس شَے میں چاہے طاقت بھر دیوے پس اپنے دیدار والی طاقت اس نے اپنی گفتار میں بھردی ہے۔انبیاء نے اسی گفتار پر ہی تو اپنی جانیں دے دی ہیں۔کیا کوئی مجازی عاشق اس طرح کرسکتا ہے؟ اس گفتار کی وجہ سے کوئی نبی اس میدان میں قدم رکھ کر پھر پیچھے نہیں ہٹا اور نہ کوئی نبی کبھی بے وفا ہوا ہے۔جنگ ِاحد کے واقعہ کی نسبت لوگوں نے تاویلیں کی ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی اس وقت جلالی تجلی تھی اور سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو برداشت کی طاقت نہ تھی اس لیے آپ وہاں ہی کھڑے رہے اور باقی اصحاب کا قدم اکھڑ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جیسے اس صدق وصفا کی نظیر نہیں ملتی جو آپ کو خدا سے تھا ایسا ہی ان الٰہی تائید ات کی نظیر بھی کہیں نہیں ملتی جو آپ کے شاملِ حال ہیں مثلاً آپ کی بعثت اور رخصت کا وقت ہی دیکھ لو۔مسیح کا آسمان پر جانا بار بار خیال آتا ہے کہ اگر مسیحؑ آسمان پر گئے تو کیوں گئے؟ یہ ایک بڑا تعجب خیز اَمر ہے کیونکہ جب زمین پر ان کی کارروائی دیکھی جاتی ہے تو بے ساختہ ان کا آسمان پر جانا اس شعر کا مصداق نظر آتا ہے۔؎ تو کارِ زمیں را نکو ساختی کہ باآسماں نیز پرداختی گویا یہ شعر بالکل اس واقعہ کے لیے شاعر کے منہ سے نکلا ہے کوئی پوچھے کہ انہوں نے آسمان پر جا کر آج تک کیا بنایا اگر زمین پر رہتے تو لوگوں کو ہدایت ہی کرتے مگر اب دو ہزاربرس تک جو ان کو آسمان پر بٹھاتے ہیں تو ان کی کارروائی کیا دکھلا سکتے ہیں۔جو بات ہم کہتے ہیں اور جس کی تائید میں