ملفوظات (جلد 5) — Page 263
رگڑتا تھا لیکن پھر بھی سر اٹھا تی جاتی تھی تو آخر میں نے کہا کہ آؤ اسے پھا نسی دیدیں۔۱ ۳۱؍اگست ۱۹۰۳ء مسلمانوں کے ادبار کا باعث اہل اسلام کے ادبار اور ان کے تنزل کا ذکر ہوا فرمایا کہ اس کا باعث خود ان کی شامت ِاعمال ہے کیونکہ زمین پر کچھ نہیں ہوتا جبکہ اوّل آسمان پر نہ ہو لے۔اکثر لوگ حکام کی سختی اور ظلم کی شکایت کیا کرتے ہیں لیکن اگر یہ لوگ خود ظالم نہ ہوں تو خدا ان پر کبھی ظالم حاکم مسلط نہ کرے زمانہ کی حالت کا اندازہ اسی سے کر لو کہ ہم ہزاروں روپے دینے کو طیار ہیں کہ کوئی جماعت آکر یہاں رہے۔ہم ان کی مہمان نوازی کریں اور حتی الوسع ہر ایک قسم کا آرام دیویں اور وہ شر افت سے اپنے شکو ک وشبہات پیش کریں اور قرآن اور احادیث ِصحیحہ سے ہماری باتیں سنیں اور پھر سمجھیں اور غور کریں کہ جو کچھ عقیدہ اسلام کے متعلق انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے اس سے کس قدر فساد اورہتک اسلام کی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لازم آتی ہے اور عیسائیوں کو کس قدر مدد ملتی ہے مگر ان لوگوں کو پروا نہیں ہے گھر بیٹھے ہی دو دوپیسہ کی کتابیں بناکر جو کچھ جھوٹ اور افترا چاہتے ہیں لکھ دیتے ہیں۔( جب مذہب کے بارے میں اس قدر بے پروائی ہے تو کیوں ان پرادبار نہ آوے) اللہ تعالیٰ پر ایمان لا نے کی حقیقت ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ خواہ کوئی یہودی ہو خواہ صابی ہو خواہ کوئی نصرانی ہو تو جو کوئی اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لاوے تو اسے حزن نہ ہوگا تو اس صورت میں اکثر ہندو لوگ بھی اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ نجات پاویں کیونکہ وہ رسول اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اگرچہ عمل نہیں کرتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔فرمایا۔اللہ پر ایمان لا نے کے معنے آپ نے کیا سمجھے ہوئے ہیں۔کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ جو ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۱؍ستمبر۱۹۰۳ءصفحہ۲۶۵