ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 262

۲۲؍اگست ۱۹۰۳ء اشاعت ِفحش سے بچیں عام طور پر ایک مرض لوگوں میں دیکھی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مرد یا عورت کی نسبت یہ بیان کرے کہ وہ بدکار ہے یا اس کا دوسرے سے تعلق بدکاری کا ہے تو چونکہ نفس ایسے معلومات کی وسعت سے لذّت پاتا ہے اس لیے اس راوی کے بیان پر بلا تحقیق یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور اسے شہرت دینے میں سعی کی جاتی ہے اور اس طرح سے نیک مرد اور نیک عورتوں کی نسبت نا پاک خیال لوگوں کے دلوں میں متمکن ہو جاتے ہیں اور جن کی شہرت ہوتی ہے ان کے دلوں پر اس سے کیا صدمہ گذرتا ہے اس کو ہر ایک محسوس نہیں کرسکتا۔اسی لیے خدا تعالیٰ نے ایسی شہرت دینے والوں کے لیے اَسی درّے سزا مقرر فرمائی ہے۔اس مضمون کے متعلق حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں شہرت دینے والوں کے لیے بشرطیکہ وہ اسے ثابت نہ کرسکیں اَسی درّے سزا رکھی ہے۔یہ اس لیے کہ جو شہرت دیتا ہے اسے اس مقدمہ میں مدعی گردانا گیا ہے اور اسی سے چار گواہ طلب کئے گئے ہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو اپنے علاوہ چار گواہ رویت کے لاوے۔یہ غلطی ہے کہ ایسے شخص کو بھی گواہوں میں شمار کیا جاوے۔۱ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۳ء ایک رؤیا حضرت اقدس نے ایک رؤیا بوقتِ عصر سنا یا۔فرمایا کہ مَیں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے اور گویا کہ ایک کبوتر ہمارے پاس ہے وہ اس پر حملہ کرتی ہے۔بار بار ہٹا نے سے باز نہیں آتی تو آخر میں نے اس کا ناک کا ٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے پھر بھی باز نہ آئی تو میں نے اسے گردن سے پکڑکے اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا بار بار رگڑتا ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۴؍ستمبر۱۹۰۳ءصفحہ۲۵۹