ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 19

(دربارِ شام ) رقّت کی لذّت طاعون کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ایک عرب صاحب۱ نووارد تھے۔انہوں نے قرآن شریف سنایا اس کی لذّت اور رقّت کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ دنیا میں ہزاروں لذّتیں ہیں مگر رقّت جیسی کوئی بھی لذّت نہیں۔یہی ہے جس سے نماز اور عبادت کا مزہ آتا ہے اور پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔۲ ۵؍ اپریل۱۹۰۳ء کثرتِ عوارض کی وجہ ان مختلف امراض اور عوارض کے ذکر پر جو انسان کو لاحق ہوتے ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ چند ایک بیماریاں ہی انسان کو لاحق کر دیتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی امراض ہیں جن میں وہ مبتلاہوتا ہے اس قدر کثرت میں خدا تعالیٰ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے تاکہ ہر طرف سے انسان اپنے آپ کو عوارضات اور امراض میں گھر اہو ا پا کر اللہ تعالیٰ سے ترساں و لرزاں رہے اور اسے اپنی بےثباتی کا ہردم یقین رہے اور مغرور نہ ہو اور غافل ہو کر موت کو نہ بھول جاوے اور خدا سے بے پروانہ ہو جاوے۔مرا بمرگِ عدو جائے شادمانی نیست بعض مخالفین کے طاعون سے ہلاک ہونے کی خبر آئی۔اس پر فرمایا کہ دشمن کی موت سے خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ہر ایک شخص کا خدا تعالیٰ ۱ ایک عرب صاحب ملک مصر سے تشریف لائے ہوئے تھے اور قرآن شریف خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔حضرت اقدس نے ان کا قرآن شریف سن کر ان کے لب و لہجہ کو بہت پسند کیا اور قرآن شریف کی عظمت کے خیال سے ان کی تکریم کی۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۵) ۲الحکم جلد ۷نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۴