ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 261

ملے اور پھر اگر وحی منقطع ہوئی مانی بھی جاوے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع ہوئی نہ اس کے اظلال اور آثار بھی منقطع ہوئے۔مسئلہ بروز سائل۔بروز کسے کہتے ہیں؟ حضرت اقدس۔جیسے شیشہ میں انسان کی شکل نظر آتی ہے حالانکہ وہ شکل بذات ِخود الگ قائم ہوتی ہے اس کا نام بروز ہے اس کا سِر سورہ فاتحہ میں ہی ہے جیسے کہ لکھا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ(الفاتـحۃ:۶،۷) تمام مفسروں نے مغضوب سے مُراد یہود اور ضالین سے مُراد نصاریٰ لیے ہیں اور پھر یہ آیت ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ(یونس:۱۵) اور آیت وَيَسْتَخْلِفَكُمْ۠ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ(الاعراف:۱۳۰) یہ آیتیں بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ایک ان میں سے اہل اسلام کی نسبت ہے اور ایک یہود کی نسبت پس مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر طرح کا انعام کروں گا اور پھر دیکھوں گا کہ کس طرح شکر کرتے ہو۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اہل یہود کو کون سی بڑی مصیبت تھی تو وہ دو بڑی مصیبتیں ہیں ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا گیا اور ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا گیا۔پس مماثلت کے لحاظ سے مسلمانوں کے لیے بھی وہی دو انکار لکھے تھے مگر وہاں شمار میں الگ الگ دو وجود تھے اور یہاں نام الگ الگ ہیں مگر وہ وجود جس میں ان دونوں کا بروز ہوا ایک ہی ہے۔ایک بروز عیسوی اور ایک محمدی اور صرف نام کے لحاظ سے اہل اسلام یہود کے بروز اسی طرح سے قرار پائے کہ انہوں نے مسیح اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا اور وہ مماثلت پوری ہو گئی اور آیا ت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اُمّت میں بروزی طور پر وہی کر توت یہودیوں والی پوری ہونی تھی اور یہ اس طرف اشارہ کرتی تھیں کہ آنے والا دورنگ لے کر آوے گا۔اسی لیے مہدی اور مسیح کے زمانہ کی علامات ایک ہی ہیں اوران دونوں کا فعل بھی ایک ہی۔۱ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۴؍ستمبر۱۹۰۳ءصفحہ۲۵۸،۲۸۹