ملفوظات (جلد 5) — Page 258
اکثر انگریزوں کوقتل کرتے رہے لیکن اب جس حالت میں کہ انگریز فاتح اور بادشاہ ہیں تو کیا سکھ یہ فخرکرسکتے ہیں کہ ہم نے اس قدر انگریزوں کو قتل کیا۔یہ کوئی جگہ فخر کی نہیں ہے کیونکہ آخر میدان انگریزوں کے ہاتھ رہا۔زندہ وہ ہوتا ہے جس کا سکہ چلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کروڑہا مسلمان موجود ہیں اور ابو جہل کے بعد اس کا تابع کوئی نہیں بلکہ اس کی اولاد ہونے کا کوئی نام نہیں لیتا تو کیا اب ابو جہل کی طرف سے کوئی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو فلاں جگہ شکست دی تھی یا کوئی بیوقوف اگر یہ کہے کہ ہوا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مَر گئے اور ابو جہل بھی تو یہ اس کی غلطی ہے مقابلہ تو کامیابی سے ہوتا ہے ابو جہل کا نام ندارد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو تخت موجود ہے۔انبیاء کو خدا ذلیل نہیں کیا کرتا انبیاء کی قوتِ ایمانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا وہ اپنی سعادت جانیں۔اگر کوئی موسیٰ علیہ السلام کے قصہ پر نظر ڈال کر اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ وہ ڈرتے تھے تو یہ بالکل فضول اَمر ہے (اور اس ڈر سے یہ مُراد ہرگز نہیں کہ ان کو جان کی فکر تھی بلکہ ان کو یہ خیال تھا کہ منصب رسالت کی بجاآوری میں کہیں اس کا اثر برا نہ پڑے۔) میرے نزدیک مومن وہی ہے کہ اگر اس نے خدا کی راہ میں جان نہ دی ہو تو وہ روحانی طور پر ضرور جان دے کر شہید ہو چکا ہو پس اگر موسٰی کو جان کا ہی خوف تھا تواس سے (اگر یہ افواہ سچ ہے کہ شہزادہ پیر مولوی عبداللطیف خان صاحب سنگسار کرکے مارے گئے ہیں ) عبداللطیف صاحب ہی اچھے رہے جنہوں نے ایمان نہ دیا اور جان دیدی پس ہماراتو یہی خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت یہ خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ میں نامُراد مارا جاؤں اور فرض رسالت ادا نہ ہو۔اگر کسی بات میں شر ہو تو یہ عادت اللہ نہیں ہے کہ مجھے وہ اطلاع نہ دے۔مہمان نو ازی آپ نے منتظمان باورچی خانہ کو تاکید کی کہ آج کل موسم بھی خراب ہے اور جس قدر لوگ آئے ہوئے ہیں یہ سب مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کرنا چاہیے اس لیے کھانے وغیرہ کا انتظام عمدہ ہو اگر کوئی دودھ مانگے دودھ دو چا ئے مانگے چائے دو کوئی بیمار ہو تو اس کے موافق الگ کھانا اسے پکادو۔