ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 257

سے مارا جاوے تو کیا۔موت توبہر حال آنی ہی ہے کسی صورت میں آگئی اس میں کیا حرج ہے اور کامیابی کی موت پر کسی کو تعجب بھی نہیں ہوا کرتا اور نہ دشمن کو خوشی ہوتی ہے۔قرآن شریف کے صریح الفاظ سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ نے قتل نبی حرام کیاہو بلکہ آنحضرتؐکی نسبت لکھا ہے اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ ( اٰل عـمران:۱۴۵) جس سے قتل انبیاء کا جواز معلوم ہوتا ہے اب جنگوں کے بیچ میں ہزاروں افسر مارے جاتے ہیں لیکن اگر ان کی موت کامیابی اور فتح اور نصرت کی ہو تو اس پر کوئی رنج نہیں کرتا بلکہ خوشی کرتے ہیں اور جو خدا کے اہل ہوتے ہیں ان کا قتل تو ان کے لیے زندگی ہے کہ اپنے قائمقام ہزاروں چھوڑ جاتے ہیں۔آنحضرتؐکی آمد اس وقت ہوئی کہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم:۴۲) کا مصداق تھا اور گئے اس وقت جبکہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (النصـر:۲) کی سند آپ کو مل گئی پس اگر آپؐکو کامیابی نہ ہوتی لیکن آپ کسی کے ہاتھ سے قتل بھی نہ ہوئے تو اس سے کیا فائدہ تھا؟ اور یہ کون سا مقام فخر کا ہے۔ہاں جب ایک شخص سلطنت قائم کرتا ہے اور اپنے قائمقام مظفر ومنصور چھوڑتا ہے تو کیا پھر دشمن کی خوشی کا موجب ہوسکتا ہے؟ بڑی سے بڑی ذلّت یہ ہے کہ ناکا می اور نا مُرادی کی موت آوے پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کامیابی کی حالت میں قتل کئے جاتے تو اس سے آپ کی شان میں کیاحرف آسکتا تھا؟ یہ بھی لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دی گئی تھی آپ کی موت میں اس زہر کا بھی دخل تھا مگر ہم کہتے ہیں کہ جب آپ کی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ کافر اس بات سے نا امید ہو گئے کہ ان کا دین پھر عود کرے گا تو ایسی حالت میں اگر آپ زہر یا قتل سے مَرتے تو کون سی قابل اعتراض بات تھی؟ دین تو تباہ نہیں ہوسکتا تھا۔غرضیکہ توریت میں جس قتل کا ذکر ہے تو اس سے نامُرادی اور ناکامی کی موت مُراد ہے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریبی رشتہ دار تھے یحییٰ کے قتل ہو جانے سے دین پر کوئی تبا ہی نہ آسکتی تھی اگر یحییٰ قتل ہوئے تو پھر عیسیٰؑ ان کی جگہ کھڑے ہوگئے۔لیکن یہ بھی یادر کھنا چاہیے کہ یحییٰ کوئی صاحب شریعت نہ تھے۔ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ توریت کا صاحب شریعت کے لیے ہو۔انگریزوں اور سکھوں کی لڑائیاںہو تی رہیں سکھ لوگ ان میں