ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 255

اس کے بعد آپ نے خدا کا کلام جو کہ آپ پر ہوا سنایا فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تسلّی ہر ایک بات میں خدا تعالیٰ کا سلسلہ تسکین کا چلا آتا ہے جس سے ان لوگوں کا ردّ ہوتا ہے جو ان مقدموں پر اعتراض کرتے ہیں (یعنی۱ اگر یہ مقدمات خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا موجب اور دین کی تائید کا باعث نہ ہوتے تو پھر خدا تعالیٰ ان کے متعلق بشارت کیوں دیتا) فرمایا کہ بعض کوتاہ اندیش ہی اعتراض کرتے ہیں ورنہ اگر ہم مقدمہ باز ہوتے تو جس وقت ڈگلس صاحب نے کہا تھا کہ تم مقدمہ کرو تو ہم اس وقت کر دیتے اور ایک تھیلا بھرا ہوا ہمارے پاس ہے جس میں گندی سے گندی گالیاں دی گئی ہیں اگر ہم چاہتے تو ان پر مقدمہ کرتے لیکن ہم نے محض لِلہ صبر کیا ہوا ہے۔فرمایا۔وہ جو زمین، آسمان کا مالک ہے جب وہ تسلی دیوے تو انسان کس قدر تسلی پاتا ہے۔خدا کا کلام صیغہ واحد اور جمع میں خدا تعالیٰ جب توحید کے رنگ میں بولے تو وہ بہت ہی پیار اور محبت کی بات ہوتی ہے اور واحدکا صیغہ محبت کے مقام پر بولا جاتا ہے۔جمع کا صیغہ جلا لی رنگ میں آتا ہے جہاں کسی کو سزا دینی ہوتی ہے۔۲ بلاتاریخ ۳ کتاب کے ساتھ استا د کی ضرورت بعض احباب آمدہ از لاہور نے عبد اللہ چکڑالوی صاحب کے خیالات اور اعتقادات کا ذکر کیا۔۱ یہ ڈائری نویس کے نوٹ معلوم ہوتے ہیں۔واللہ اعلم (مرتّب) ۲البدرجلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۸؍اگست۱۹۰۳ءصفحہ۲۵۱ ۳ ان ملفوظات کے شروع میں ایڈیٹر صاحب’’البدر‘‘ نے یہ نوٹ دیا ہے کہ ’’گذشتہ اشاعت سے آگے سلسلہ کے لئے دیکھو اخبار ۳۲ جلد ۲ صفحہ ۱‘‘ نمبر ۳۲ میں ۱۱؍تا ۱۸؍ اگست کی ڈائریاں چھپی ہیں مگر ان میں سے کسی ڈائری کے آخر میں ’’باقی آئندہ ‘‘کے الفاظ درج نہیں جس سے پتا چلے کہ یہ ملفوظات فلاں ڈائری کے تسلسل میں ہیں۔(مرتّب)