ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 18

کہ جو شخص ایک طرف کا ہوگا اس سے کسی نہ کسی کا دل ضرور دکھے گا۔مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ فرمایا کہ میں نے اس آیت پربڑی غور کی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ ہر ایک بلندی سے دوڑیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوصورتیں ہیں اوّل یہ کہ ہر ایک سلطنت پر غالب آجاویں گے۔دوم یہ کہ بلندی کی طرف انسان قوت اور جرأت کے بغیر دوڑا ور چڑھ نہیں سکتا اور مذہب پر غالب آجا نا بھی ایک بلند ی ہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر وہ زمانہ بھی آوے گا کہ مذہب کے اوپر سے بھی گذر جاویں گے یعنی اپنے اس تثلیثی مذہب سے بھی عبور کر جاویں گے اور اس کو پاؤں کے نیچے مسل دیویں گے اور اسی سے ہمیں ان کے اسلام میں داخل ہو جانے کی بو آتی ہے۔اب پہلی بات تو پوری ہو چکی ہے اب انشاء اللہ دوسری بات پوری ہو گی اور یہ باتیں خدا کے ارادہ کے ساتھ ہوا کرتی ہیں۔جب خدا کی مشیت ہوئی تو ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور دلوں کو حسب استعداد صاف کرتے ہیں۔تب یہ کام ہو اکرتے ہیں۔آنحضرتؐکا خلق عظیم فرمایا۔آنحضرت کے اخلاق کا نمونہ، ایک صوفی لکھتا ہے کہ آپ کے پاس ایک نصرانی ملاقات کو آیا۔آپ نے اس کو اپنا مہمان کیا۔رات کو کھانا اوربسترہ دیا مگر وہ کمبخت بہت کھا گیا۔رات کو بد ہضمی ہوئی تو لحاف میں اس کا دست نکل گیا۔اس لیے شرمندہ ہو کر صبح کو چوری چوری چل دیا۔جب وہ دور نکل گیا تو آنحضرت کو معلوم ہوا کہ مہما ن چلا گیا ہے بستر دیکھا تو پا خانہ سے بھرا ہوا۔آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے دھونا شروع کیا۔صحابہؓ نے ہرچند اصرار کیا کہ ہم دھوئیں مگر آپ نے فرمایا کہ وہ میرامہما ن تھا مجھے دھونے دو۔ادھر راستہ میں نصرانی کو یاد آیا کہ وہ اپنے سونے کی صلیب بستر پر بھول آیا ہے۔اسے لینے کے واسطے وہ واپس آیا۔دیکھا تو آپ وہی نجاست بھرا لحاف اپنے ہاتھ سے دھو رہے ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر صلیبی ایمان پراس نے لعنت کی اور مسلمان ہو گیا۔۱ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۵