ملفوظات (جلد 5) — Page 17
نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائزرکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کرسکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کرسکتی ہے۔قرآن کریم کی روسے جب تین طلاق دیدی جاویں تو پہلاخاوند اس عورت سے نکا ح نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ کسی اور کے نکا ح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلاعمداً اُسے طلاق دے دیوے۔اگر وہ عمداً اسی لیے طلاق دے گا کہ اپنے پہلے خاوند سے و ہ پھر نکاح کر لیوے تویہ حرام ہوگا کیونکہ اسی کا نام حلالہ ہے جوکہ حرام ہے۔فقہاء نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو جائز رکھا ہے اور پھر عدت کے گذرنے کے بعد اسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّل اسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو طلاق بہت ناگوارہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خانہ بربادی ہو جاتی ہے۔اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقررکی کہ اس عرصہ میں دونوں اپنا نیک وبد سمجھ کراگر صلح چاہیں توکرلیویں۔نماز جنازہ فرمایا کہ اگر متوفّٰی بالجہر مکفّر اور مکذّب نہ ہو تواس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں۔کیونکہ علّام الغیوب خدا کی پاک ذات ہے۔فرمایا۔جو لوگ ہمارے مکفّر ہیں اور ہم کو صریحاً گالیاں دیتے ہیں۔ان سے السلام و علیکم مت لو اور نہ ان سے مل کرکھانا کھائو۔ہاں خرید وفروخت جائز ہے اس میں کسی کا احسان نہیں۔جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ ادھر کا اور نہ اُدھر کا ہوں اصل میں وہ بھی ہمارا مکذّب ہے اور جو ہمارا مصدّق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہوتے ہیں۔ان کا یہ اصول ہوتا ہے کہ بامسلماں اللہ اللہ بابرہمن رام رام ان لوگوں کو خدا سے تعلق نہیں ہوتا۔بظاہر کہتے ہیں کہ ہم کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر یاد رکھو