ملفوظات (جلد 5) — Page 251
کا کچھ مالی نقصان ہے تو وہ بھی دینے کو طیار ہیں اور اگر آپ کی کچھ ملازمت اور تنخواہ ہے تو اس عرصہ کے لیے وہ بھی دے دیں گے۔مگر گل محمد نے ایسی ’’نہیں‘‘ پکڑی کہ کوئی بات منظور نہ کی اور یہی کہا کہ کل میں ضرور چلا جاؤں گا۔اسی وقت آپ میرے ساتھ سوال و جواب کر لیں حضرت نے اس اَمر کو نامنظور کیا اور بہت سمجھا یا کہ یہ مذہبی معاملہ ہے ہم اس میں ایسی جلد بازی ہرگز نہیں کرسکتے اور نہ ہم اس اَمر کی پر وا رکھتے ہیں کہ آپ باہر جا کر لوگوں کو کیا کچھ کہیں گے یا سنائیں گے۔اگر آپ کو حق کی طلب ہے تو آپ چند روز ہمارے پاس ٹھہر جائیں بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اگر آپ کا حرج ہے تو ہم دو چار روپیہ روز تک بھی دینے کو طیار ہیں۔مگر گل محمد صاحب نے کوئی بات نہ مانی اور کہا کہ اچھا میں پھر آؤں گا مگر صرف چار دن کے لیے۔حضرت نے فرمایا کہ کم از کم دس دن ضروری ہیں۔مگر جب گل محمد صاحب نے کہا کہ میں چار دن سے زائد بالکل نہیں ٹھہر سکتا تو بالآخر حضرت نے چار دن ہی منظور فرمائے اور گل محمد صاحب کی درخواست پر اسی وقت ایک عہد نامہ تحریر ہو اجو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔نقل عہد نامہ منجانب گل محمد عیسائی گل محمد صاحب کی تحریک کے مطابق جو اجازت ان کو یہاں قادیان آنے کے لیے شیخ عبدالرحمٰن صاحب نے تحریر کی تھی کہ وہ اپنے مشکلات مذہبی کے حل کرنے کے لیے قادیان حضرت اقدس کے پاس آسکتے ہیں اس کے مطابق وہ یہاں آکر ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء کو بعد نماز مغرب حضرت صاحب کے پاس آئے مگر چونکہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے کل ہی واپس جانا ہے اور وہ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے اور حضرت صاحب بھی گورداسپور جانے کے سبب سے ان کوزیادہ وقت نہیں دے سکتے اس لیے یہ قرار پایا کہ گل محمد صاحب ابتدائی ہفتہ اکتوبر ۱۹۰۳ء میں چار دن کے لیے یہاں آئیں اور اپنا ایک سوال تحریری پیش کریں جس کا