ملفوظات (جلد 5) — Page 248
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۸ جلد پنجم فرمایا کہ انسان کے اندر جو نور اور شعاع اعلائے کلمتہ الاسلام کا ہوتا ہے وہ انسان کو اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے۔ ۹ راگست ۱۹۰۳ء در بار شام) بیمار پرسی اور کسی میت کی تجہیز و تکفین کی نسبت ذکر ہوا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام حقوق العباد نے فرمایا کہ ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہو جاوے تو حتی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے صرف دعوی ہی دعوی نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق اور ہمسایوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بے شک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوت کو برت کر دکھلا نا مشکل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال وافعال کے لیے ایمان مثل ایک انجن کے ہے۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے۔ ایمان کا تخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ کے ۱۰ راگست ۱۹۰۳ء ( در بار شام ) شام کے وقت ایک صاحب نے گنڈے، تعویذات گنڈے اور تعور ر تعویذ کی تاثیرات کی تاثیرات کی نسبت استفسار کیا حضرت اقدس نے ه البدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخه ۲۱ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۴۲