ملفوظات (جلد 5) — Page 245
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۵ جلد پنجم جب تک کہ ایک دعا کا فیصلہ ہو جاوے اس کے بعد ایسے امور کی طرف بھی اللہ تعالیٰ چاہے تو توجہ ہو سکتی ہے لیکن دعا کرانے والے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے صلح کرے اپنے گناہوں سے تو بہ کرے۔ پس جہاں تک ممکن ہو تم اپنے آپ کو درست کرو اور یہ یقیناً سمجھ لو کہ انسان کا پرستار کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مسیح کی زندگی کے حالات پڑھو تو صاف معلوم ہو گا کہ وہ خدا نہیں ہے اس کو اپنی زندگی میں کس قدر کوفتیں اور کلفتیں اٹھانی پڑیں اور دعا کی عدم قبولیت کا کیسا برانمونہ اس کی زندگی میں دکھایا گیا ہے خصوصاً باغ والی دعا جو ایسے اضطراب کی دعا ہے وہ بھی قبول نہ ہوئی اور وہ پیالہ ٹل نہ سکا۔ بس ایسی حالت میں مقدم یہ ہے کہ تم اپنی حالت کو درست کرو اور انسان کی پرستش چھوڑ کر حقیقی خدا کی پرستش کرو۔ اے بلا تاریخ مسیح کے آسمانی نزول سے یہ مراد ہے کہ اس کے ساتھ آسمانی آسمانی نزول سے مراد اسباب ہوں گے اور اس کا تعلق سماوی علوم سے ہوگا اور ایساہی فرشتوں کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے مراد ہے۔ یہ ایک اعلیٰ درجہ کا لطیفہ تھا جس کو کم فہم لوگوں نے ایک چھوٹی اور موٹی سی بات بنالیا ہے جو صحیح نہیں ۔ فرمایا۔ دشمن کی دشمنی بھی ایک وقعت رکھتی ہے۔ ہزاروں ٹھہدے فقیر پھرتے ہیں ۔ مگر کوئی ان کو نہیں پوچھتا اور نہ ان کا مقابلہ کرتا ہے مگر ہمارے مقابلہ میں ہر قسم کے حیلے کئے جاتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے کوشش کی جاتی ہے کہ ہم کو نقصان پہنچا یا جاوے اور وہ اس مقابلہ کے لیے ہزاروں روپیہ بھی خرچ کر چکے ہیں ان کی مخالفت بھی ان نشانات کا جو ظاہر ہورہے ہیں ایک روک بن جاتی ہے۔ ہے الحکم جلدے نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ الحکم جلدے نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲