ملفوظات (جلد 5) — Page 236
َسْفَلَ سٰفِلِيْنَ(التّین:۵،۶) میں گرایا جاتا ہے۱ پس یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان میں یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو نفع پہنچاوے تو وہ جانوروں سے بھی گیا گذرا ہے اور بدترین مخلوق ہے۔کامیابی کی موت بھی درازیٔ عمر ہے اس جگہ ایک اَور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو نیک اور برگزیدہ ہوتے ہیں چھوٹی عمر میں بھی اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں۲ اور اس صورت میں گویا یہ قاعدہ اَور اصل ٹوٹ جاتا ہے۔مگر یہ ایک غلطی اور دھوکا ہے دراصل ایسا نہیں ہوتا۔یہ قاعدہ کبھی نہیں ٹوٹتا مگر ایک اور صورت پر درازیٔ عمر کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل منشا اور درازیٔ عمر کی غایت تو کامیابی اور بامُراد ہونا ہے۔پس جب کوئی شخص اپنے مقاصد میں کامیاب اور بامُراد ہو جاوے اور اس کو کوئی حسرت اور آرزو باقی نہ رہے اور مَرتے وقت نہایت اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ گویا پوری عمر حاصل کرکے مَرا ہے اور درازی عمر کے مقصد کو اس نے پالیاہے۔اس کو چھوٹی عمر میں مَرنے والا کہنا سخت غلطی اور نادانی ہے۔البدر میں ہے۔’’قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَیہ بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہے مخلوق کو فائدہ رسانی کے بعد اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے سے انسان پر یہ کلمہ کہ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ صادق آتا ہے اور اگر وہ یہ نہیں کرتا ہے تو اَسْفَلَ السَّافِلِیْن ہی میں ردّ کیا جاتا ہے اگر انسان میں یہ باتیں نہیں ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے تو پھر کتّے، بھیڑ، بکری، وغیرہ جانوروں میں اور اس میں کیا فرق ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۴ ) ۲ البدر سے۔’’اگر انسان خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں مَر جائے تو جانے کہ اس نے بڑی عمر حاصل کر لی ہے کیونکہ بڑی عمر کا اصل مدعا جو یہ تھا کہ مخلوق کو فائدہ پہنچا کر اور خدا کے اوامر کی اطاعت کر کے اپنے مولیٰ کو راضی کرے وہ اس نے حاصل کر لیا اور مَرتے وقت اس کے دل میں کوئی حسرت نہیں رہی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۴ )