ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 236

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۶ جلد پنجم اسْفَلَ سَفِلِينَ (التین : ۲،۵) میں گرایا جاتا ہے کے پس یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان میں یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو نفع پہنچاوے تو وہ جانوروں سے بھی گیا گذرا ہے اور بدترین مخلوق ہے۔ اس جگہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض کامیابی کی موت بھی درازی عمر ہے لوگ جو نیک اور برگزیدہ ہوتے ہیں چھوٹی عمر میں بھی اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں ہے اور اس صورت میں گویا یہ قاعدہ اور اصل ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر یہ ایک غلطی اور دھوکا ہے دراصل ایسا نہیں ہوتا۔ یہ قاعدہ کبھی نہیں ٹوٹتا مگر ایک اور صورت پر درازی عمر کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل منشا اور درازی عمر کی غاب غایت تو کامیابی اور بامراد ہونا ہے۔ پس جب کوئی شخص اپنے مقاصد میں کامیاب اور بامراد ہو جاوے اور اس کو کوئی حسرت اور آرزو باقی نہ رہے اور مرتے وقت نہایت اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ گویا پوری عمر حاصل کر کے مرا ہے اور درازی عمر کے مقصد کو اس نے پالیا ہے۔ اس کو چھوٹی عمر میں مرنے والا کہنا سخت غلطی اور نادانی ہے۔ ل البدر میں ہے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ یہ بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہے مخلوق کو فائدہ رسانی کے بعد اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے سے انسان پر یہ کلمہ کہ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِیمِ صادق آتا ہے اور اگر وہ یہ نہیں کرتا ہے تو اَسْفَلَ السَّافِلِین ہی میں رد کیا جاتا ہے اگر انسان میں یہ باتیں نہیں ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے تو پھر کتے ، بھیڑ ، بکری، وغیرہ جانوروں میں اور اس میں کیا فرق ہے۔“ ( البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۴) البدر سے اگر انسان خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں مر جائے تو جانے کہ اس نے بڑی عمر حاصل کر لی ہے کیونکہ بڑی عمر کا اصل مدعا جو یہ تھا کہ مخلوق کو فائدہ پہنچا کر اور خدا کے اوامر کی اطاعت کر کے اپنے مولیٰ کو راضی کرے وہ اس نے حاصل کر لیا اور مرتے وقت اس کے دل میں کوئی حسرت نہیں رہی ۔“ 66 (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ را گست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۳۴)