ملفوظات (جلد 5) — Page 232
کھولا اور جب کھولا ہم نے بیان کردیا۔۱،۲ یکم اگست ۱۹۰۳ء گناہ پر مواخذہ کی وجہ ایک دوست کے تحریر ی سوال پر کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کیوں معاف نہیں کرتا اور گناہ پر مواخذہ کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا۔گناہوںکے مواخذہ کے متعلق یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا سنّت اللہ میں یہ داخل ہے یا نہیں؟ وہ ہمیشہ سے مواخذہ کرتا آیا ہے۔۳ گناہ خواہ ازقسم صغائر ہوں یا کبائراس کا مواخذہ ضرور ہوتا ہے اور انسان ہے اور انسان خوداپنی فطرت میں غور کرے کہ کیا وہ اپنے ماتحتوں اور متعلقین سے کوئی مواخذہ کرتا ہے یا نہیں جب ان سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور وہ کوئی خطاکرتے ہیں۔یہ فطرتی نقش اس بات پر ایک حجت اور گواہ ہے اور یہ بات کہ شرک کو نہیں بخشتا اگر ایک ایک گناہ پر سوال ہو تو پھر بہت بڑی وسعت دے کر اس سوال کو یوں کہنا پڑے گا کہ وہ ہر قسم کے گناہ کیوں معاف نہیں کر دیتا۔سزا دیتا ہی کیوں ہے؟ یہ غلطی ہے پہلی امتوںپر گناہوں کے باعث عذاب آئے اور اب بھی اللہ تعالیٰ اسی طرح البدر میں ہے۔’’غرضیکہ رسول وہی کام کرتا ہے جس کا حکم دیا جاتا ہے۔جیسے خدا فرماتا ہے فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(الـحجر:۹۵) جس کا حکم نہ دیا جائے اس کے بر خلاف کچھ کہنا یا کرنا گستاخی ہے۔(پس یہی وجہ تھی کہ مسیح کے آسمان پر زندہ ہونے کا جو عقیدہ عامہ اہلِ اسلام میں رائج تھا۔اُسے کتاب میں لکھ دیا گیا اور جب وحی الٰہی نے اُسے غلط ثابت کیا وہ غلطی ظاہر کردی گئی۔) ‘‘ (البدرجلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴ ؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۳۴ ) ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴ ؍اگست ۱۹۰۳ءصفحہ ۱، ۲ ۳ البدر میں ہے۔’’فرمایا کہ اگر شرک کو اللہ تعالیٰ بخش دے تو پھر زانی اور ہر ایک فاسق فاجر کو بھی بخش دینا چاہیے اور پھر اس میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیا اللہ تعالیٰ گناہوں کا بدلہ دیتا ہے کہ نہیں اور گناہوں کے بارے میں پہلی اُمتوں سے اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا تو اس کے جواب میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکثر اُمتوں کو گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے عذاب دئے گئے تو پھر شرک جیسے گناہ کی سزا کیوں نہ دی جائے۔‘‘ (البدرجلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۳)