ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 16

چڑھنا قوت اور جرأ ت کو چاہتا ہے۔نہا یت بڑی بھاری اور آخری بلندی مذہب کی بلندی ہوتی ہے۔سارے زنجیروں کوانسان توڑسکتاہے مگر رسم اور مذہب کی ایک ایسی زنجیر ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ہمت والاہی توڑسکتا ہے۔سوہمیں اس ربط سےیہ بھی ایک بشارت معلوم ہوتی ہے کہ وہ آخر کا راس مذہب اور رسم کی بلندی کو اپنی آزادی اور جرأت سے پھلانگ جاویں گے اور آخر کا راسلام میں داخل ہوتے جاویں گے اور یہی ضال کے لفظ سے بھی ٹپکتا ہے اور اس اَمر کی بنیادی اینٹ قیصرجرمن نے چنددن ہوئے ا پنا عقیدہ عیسویت کے متعلق ظاہر کرکے رکھ دی ہے۔دجال کے ’’کانا‘‘ ہونے سے مُراد یہ جوحدیث شریف میں آیا ہے کہ دجال کانا ہوگا۔ایک آنکھ بالکل نہ ہو گی اور دوسری میں گُل ہوگا۔یہ ایک نہایت باریک استعارہ ہے۔یعنی اس کی ایک آنکھ (قرآ ن کی آنکھ) تو بالکل نہ ہو گی۔اس طرف سے تو وہ بالکل اندھا اور کا لمیّت ہوگا اور دوسری توریت والی سووہ بھی کانی ہو گی اس میں بھی گل ہوگا یعنی اس کی تعلیم پر بھی پورے طور سے کار بند نہ ہو نگے۔چنا نچہ واقعہ نے کیسا صاف بتا دیا ہے کہ یہ اسی طرح ہے اورآنحضرتؐکی پیشگوئی کیسی صاف طور سے پوری ہوئی ہے۔عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ ان کے اس عقیدے پر نظر کرے کہ خدا مَر گیا ہے بھلا کوئی سوچے کہ کبھی خدا بھی مَرا کرتا ہے۔اگر یہ کہیں کہ خدا کا روح نہیں بلکہ جسم مَرا تھا تو ان کا کفّارہ باطل جاتا ہے۔۱ ۴؍اپریل ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) طلاق ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہوسکتی۔طلاق میں تین طہرہو نے ضروری ہیں۔فقہاء