ملفوظات (جلد 5) — Page 226
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۶ جلد پنجم اور اعمال اس کی آبپاشی کے لیے بطور نہروں کے ہیں۔ جب تک اعمال سے ایمان کے پودہ کی آبپاشی نہ ہو اس وقت تک وہ شریں پھل حاصل نہیں ہوتے ۔ بہشتی زندگی والا انسان خدا کی یاد سے ہر وقت لذت پاتا ہے اور جو بد بخت دوزخی زندگی والا ہے تو وہ ہر وقت اس دنیا میں زقوم ہی کھا رہا ہے اس کی زندگی تلخ ہوتی ہے۔ مَعِيشَةً ضَنْكًا (طه: ۱۲۵) بھی اسی کا نام ہے جو قیامت کے دن زقوم کی صورت پر متمثل ہو جائے گی ۔ غرض دونوں صورتوں میں باہم رشتے قائم ہیں ۔ ہے ۲۹ جولائی ۱۹۰۳ء بوقت نماز ظهر ) برادرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر میڈیکل کالج لاہور نے آج لاہور کو جانا نجات تھا۔ انہوں نے لاہور آریہ سماج کے اس اشتہار کا ذکر کیا جو انہوں نے مسئلہ نجات پر مباحثہ کے لیے شائع کیا ہے، اس پر حضرت حجۃ اللہ نے مختصراً نجات کے متعلق یہ تقریر بیان فرمائی۔ اس کا ماحصل یہ ہے۔ (ایڈیٹر ) سے ہے نہ فرمایا۔ نجات کے متعلق جو عقیدہ قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نجات نہ تو صوم ہے نہ صلوٰۃ ة سے سے نہ نہ زکوۃ زکوٰۃ اور اور صدقات سے سے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے جس کو دعا حاصل کرتی ہے۔ اس لیے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة:1) کی دعا سب سے اوّل تعلیم فرمائی ہے کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے جس سے اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے کیونکہ جب انسان کی دعا جو سچے دل اور خلوص نیت سے ہو قبول ہوتی ہے تو پھر نیکی اور اس کے شرائط ساتھ خود ہی مرتب ہو جاتے ہیں۔ اگر نجات کو محض اعمال پر منحصر کیا جاوے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور دعا کو محض بے حقیقت سمجھا دو ل البدر میں ہے ۔ مختلف حیل سے کما کر تلخ زندگی بسر کرتا ہے۔ وہی کمائی اسے قیامت کے دن زقوم کی شکل میں متمثل ہو کر ملے گی ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۲۷) الحکم جلد ۷ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۱۰