ملفوظات (جلد 5) — Page 225
طرح اقرار کی توفیق نہیں ملتی۔تیسرا اصول جہالت ہے یہ بھی ہلاک کرتی ہے۔چوتھا اصول اتباع ھویٰ ہے۔پانچواں کورانہ تقلید ہے۔غرض اسی۱ طرح پر جرائم کے سات اصول ہیں اور یہ سب کے سب قرآن شریف سے مستنبط ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان دروازوں کا علم مجھے دیا ہے۔جو گناہ کوئی بتائے وہ ان کے نیچے آجاتا ہے۔کورانہ تقلید اور اتباع ھویٰ کے ذیل میں بہت سے گناہ آتے ہیں۔جنّت کی نعماء اسی طرح ایک دن میں نے بیان کیا کہ دوزخیوں کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ ان کو زَقُّوْم کھانے کو ملے گا اور بہشتیوں کو اس کے بالمقابل دودھ اور شہد کی نہریں اور قِسم قِسم کے پھل بیان کئے گئے ہیں۔اس کا سِر کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بالمقابل بیان ہوئی ہیں۔بہشت کی نعمتوں کا ذکر ایک جگہ کرکے یہ بھی فرمایا ہے كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا (البقرۃ:۲۶) تو اس میں رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ سے یہ مُراد نہیں کہ دنیا کے آم، خربوزے اور دوسرے پھل اور دنیا کا دودھ اور شہد ان کو یاد آجائے گا نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ مومن جو اخلاص اور محبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس ذوق شوق سے جو لذّت ان کو محسوس ہوتی ہے تو بہشت کی نعمتوں اور لذتوں کے حاصل ہونے پر وہ لذّت ان کو یاد آجائے گی کہ اس قسم کی لذّت بخش نعمتیں ہمارے رب سے پہلے بھی ملتی رہی ہیں۔چونکہ بہشتی زندگی اسی عالم سے شروع ہوتی ہے اس لیے ان نعمتوں کا ملنا بھی یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔ورنہ بہشت کی نعمتوں کے بارہ میں تو آیا ہے کہ نہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔تو ان دنیوی پھلوں سے ان کا رشتہ کیا ہوا؟ ایمان اور اعمال کی مثال قرآن شریف میں درختوں سے دی گئی ہے۔ایمان کو درخت بتایا ہے ۱ معلوم ہوتا ہے کہ باقی دو اُصول ڈائری نویس قلمبند نہیں کرسکے۔(مرتّب)