ملفوظات (جلد 5) — Page 221
ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔۱ اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ (النّور:۲۷) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لوگوںکے لیے ہیں اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے۔تو وہ ایسے ابتلاؤں سے بچا لیا جاوے گا۔ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی۔اور جب کھانا رکھا گیا تو عمداً سور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے اور اپنے دوستوں کے آگے۔جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذریعہ کشف اصل حال کھول دیا انہوں نے کہاٹھیرو یہ تقسیم ٹھیک نہیں اور یہ کہہ کر اپنے آگے کی رکا بیاں ان کے آگے اور ان کے آگے کی اپنے آگے رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۔الآیۃ۔غرض جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بُری اور مکروہ باتوں سے اس کو بچالیتا ہے۔اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ (یوسف:۵۴)کے یہی معنے ہیں۔۲ ۲۵؍جولائی۱۹۰۳ء ( دربارِ شام ) ایک الہام فرمایا۔کل مجھے الہام ہوا تھا اَلْفِتْنَۃُ وَالصَّدَ قَاتُ فرمایا کہ اب الہام بھی اسے کیا کہیں۔ایسی صاف اور واضح وحی ہوتی ہے کہ کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش بالکل نہیں رہتی۔شاذونادر ہی کوئی ایسی وحی ہو تو ہو ورنہ ہر وحی میں پیشگوئی ضرور ہوتی ہے۔۱ البدر میں ہے۔’’اور متقی کو تو کسی قسم کی تکلیف پیش نہیں آتی اور اسے حلال روزی پہنچانے کی ذمہ داری خود خدا نے لی ہے اور اس نے یہ وعدہ بھی فرمایا ہے کہ اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ (النّور:۲۷) (البدرجلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۶ ۲۲ ) ۲ الحکم جلد۷نمبر۲۹ مورخہ ۱۰؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰