ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 219

اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لیے قرار پائی۔پھر دوسری صفت رحمٰن کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھیرے کیونکہ آپ کے فیوض وبرکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں۔مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ (الفرقان:۵۸) پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں آپؐنے اور آپؐکے صحابہؓ نے جو محنتیں اسلام کے لیے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اٹھائیں وہ ضائع نہیں ہوئیں بلکہ ان کا اجردیا گیا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف میں رحیم کالفظ بولا ہی گیا ہے پھر آپ مالکیت یوم الدین کے مظہر بھی ہیں اس کی کامل تجلّی فتح مکّہ کے دن ہوئی ایسا کامل ظہور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اربعہ کا جو اُمّ الصفات ہیں اَور کسی نبی میں نہیں ہوا۔۱ ۲۳؍جولائی ۱۹۰۳ء ایک رؤیا فرمایا کہ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک آنب ہے جسے میں نے تھوڑا ساچُو سا تو معلوم ہوا کہ وہ تین پھل ہیں جب کسی نے پوچھا کہ کیا پھل ہیں تو کہا کہ ایک آنب ہے ایک طوبا۲اور ایک اَور پھل ہے۔اسلام سے ارتداد کی وجہ اسلام سے ارتداد کی وجہ پر ذکر ہوتے ہوئے فرمایا کہ جب ایک قوم کا غلبہ اور اقبال ہوتا ہے تو خود غرض آدمی اغراض کے واسطے اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔۳ ۱الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹،۲۰ ۲الحکم میں ’’طوبیٰ ‘‘ لکھا ہے۔(الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۰ ؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰ ) ۳البدر جلد۲ نمبر۲۹ مورخہ ۷؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ ۲۲۶