ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 216

مچھلی بھول گئے۔جب دوبارہ تلاش کرنے آئے تو معلوم ہوا کہ مچھلی وہاں نہیں ہے۔وہاں ٹھیر گئے تو ایک ہمارے بندہ سے ملاقات ہوئی۔اس کو موسیٰ نے کہا کہ کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ کے ساتھ رہ کر علم اور معرفت سیکھوں؟ اس بزرگ نے کہا کہ اجازت دیتا ہوں مگر آپ بد گمانی سے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ جس بات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی اور سمجھ نہیں دی جاتی تو اس پر صبر کرنا مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک موقع پر بے محل کام کرتا ہے تو اکثر بد ظنّی ہوجاتی ہے۔پس موسٰی نے کہا کہ میں کوئی بد ظنّی نہ کروں گا اور آپ کا ساتھ دوں گا۔اس نے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ چلے گا تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کرنا۔پس جب چلے تو ایک کشتی پر جا کر سوار ہوئے۔( پھر یہاں پر حضرت اقدس نے حضرت موسیٰ کا وہ تمام قصہ ذکر کیا جو کہ سورہ کہف میں مذکور ہے۔پھر اس دیوار کے خزانہ کی نسبت فرمایا کہ)اس کو اس واسطے درست کردیا کہ وہ دو یتیم بچوں کے کام آوے۔اس واسطے یہ کام کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ ان بچوں نے کوئی نیک کام نہ کیا تھا مگر ان کے باپ کے نیک بخت اور صالح ہونے کے باعث خدا نے ان بچوں کی خبر گیری کی۔دیکھو کہاں یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے واسطے اس کی اولاد کا اس قدر خیال رکھا اور کہاں یہ کہ انسان غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور تباہ ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ پروا نہیں کرتا۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا سے ہر حال میں تعلق رکھتے ہیں۔تو خدا ان کو ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے۔دیکھو ایک انسان کے دن بر گشتہ ہیں۔کام اس کے خراب ہیں مگر خدا رحم نہیں کرتا۔تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ قابل رحم ہی نہیں ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان پر بڑا رحم ہے۔ہزاروں گناہ بخشتا ہے۔جب انسان بہت تعلق خدا کے ساتھ پیدا کرتا ہے اور سب طرح سے اسی کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِعْـمَلْ مَاشِئْتَ فَاِنِّیْ غَفَرْتُ لَکَ یعنی جو تیری مرضی ہو کئے جا مَیں نے تجھے سب کچھ بخش دیا۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ (حٰمٓ السجدۃ:۴۱) یعنی جو چاہو سو کئے جائو۔پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا مہر بان اور رحیم ہے اور بہت رحم سے معاملہ کرتا ہے۔