ملفوظات (جلد 5) — Page 214
کی موت سخت نامُرادی سے ہوتی ہے۔دنیا دار کی موت کے وقت ایک خواہش پیدا ہوتی ہے اور اسی وقت اسے نزع ہوتی ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی اسے عذاب دیوے اور اس کی حسرت کے اسباب پیداہو جاتے ہیں تاکہ انبیاء کی موت جو کہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً کی مصداق ہوتی ہے اس میں اور دنیا دار کی موت میں ایک بیّن فرق ہو۔دنیا دار کتنی ہی کوشش کرے گا مگر اس کی موت کے وقت حسرت کے اسباب ضرور پیش ہوجاتے ہیں غرضیکہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً کی موت مقبولین کی دولت ہے اس وقت ہر ایک قسم کی حسرت دور ہو کر ان کی جان نکلتی ہے۔راضی کا لفظ بہت عمدہ ہے اور ایک مومن کی مُرادیں اصل میں دین کے لیے ہواکرتی ہیں خدا کی کامیابی اور اس کے دین کی کامیابی اس کااصل مدّعا ہوا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت ہی اعلیٰ ہے کہ جن کو اس قسم کی موت نصیب ہوئی۔۱ ۱۶؍جولائی۱۹۰۳ء (بعد نمازِ عصر) نظر نظر کا فرق سلطان محمود سے ایک بزرگ نے کہا کہ جو کوئی مجھ کو ایک دفعہ دیکھ لیوے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔محمود نے کہا یہ کلام تمہارا پیمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کرہے۔ان کو کفار ابولہب، ابوجہل وغیرہ نے دیکھا تھا ان پر دوزخ کی آگ کیوں حرام نہ ہوئی۔اس بزرگ نے کہا کہ اے بادشاہ کیا آپ کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ (الاعراف:۱۹۹) اگر دیکھا اور جھوٹا کاذب سمجھا تو کہاں دیکھا؟ حضرت ابوبکر ؓ نے، فاطمہ ؓ۲نے، حضرت عمرؓ نے اور دیگر اصحابؓ نے آپ کو دیکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے آپ کو قبول کرلیا۔دیکھنے والا اگر محبت اور اعتقاد کی نظر سے دیکھتا ہے تو ضرور اثر ہوجاتا ہے اور جوعداوت اور دشمنی کی نظر سے دیکھتا تو اسے ایمان حاصل نہیں ہواکرتا۔۱ البدر جلد۲ نمبر۲۸ مورخہ ۳۱؍جولائی۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۸ ۲ ممکن ہے خدیجہ فرمایاہو۔(مرتّب)